امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

شیعیت کا آغاز کہاں سے ہوا؟ اس نے کب شکل اختیار کی؟ اور اس کا پہلا بیج کس نے بویا؟

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

شیعیت کا آغاز کہاں سے ہوا؟ اس نے کب شکل اختیار کی؟ اور اس کا پہلا بیج کس نے بویا؟
مؤلف:    الشيخ محمد حسين آل كاشف الغطاء
مترجم: یوسف حسین عاقلی
http://alhassanain.org/arabic/?com=content&id=6987

شیعیت کہاں سے وجود میں آئی؟
 اور کب تشکیل پائی؟
 اور اس کا پہلا بیج کس نے بویا؟ 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
یقیناً پہلا شخص جس نے اسلام کے میدان میں تشیع کا بیج بویا وہ خود شریعت اسلامیہ کے مالک (صلی اللہ علیہ وآلہ) ہیں، یعنی تشیع کا بیج اسلام کے بیج کے ساتھ، شانہ بشانہ اور برابر برابر رکھا گیا، اور اس کا بونے والا اس کی آبیاری اور دیکھ بھال کرتا رہا یہاں تک کہ وہ ان کی زندگی میں پھلا اور پھولا، پھر ان کی وفات کے بعد پھل لایا۔

اور اس پر میرا گواہ خود آپ ﷺ کی شریفانہ احادیث ہیں، نہ کہ شیعہ اور امامیہ راویوں کی طرز سے، تاکہ یہ کہا جائے کہ وہ ساقط ہیں کیونکہ وہ (رجعت) کے قائل ہیں یا ان کا راوی (اپنی طرف کھینچتا ہے) بلکہ خود علمائے سنت اور ان کے اعلام کی احادیث سے، اور ان کی معتبر طریقوں سے جن میں کوئی صاحبِ عقل جھوٹ اور وضع کا گمان نہیں کر سکتا۔ اور میں ماضی کے مطالعات سے جو کچھ میرے ذہن میں محفوظ ہے اور جس پر میں بغیر کسی قصد اور توجہ کے اتفاقاً ملا ہوں، اس کا ایک حصہ ذکر کرتا ہوں۔

ان میں سے وہ روایت ہے جو سیوطی نے اپنی کتاب (الدر المنثور في تفسير كتاب الله بالمأثور) میں اللہ تعالیٰ کے قول: ﴿ ... أُولَٰئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ ﴾ (١) کی تفسیر میں ذکر کی ہے۔
کہا: ابن عساکر نے جابر بن عبداللہ سے روایت کیا، انہوں نے کہا: ہم نبی ﷺ کے پاس تھے کہ علی علیہ السلام تشریف لائے تو نبی ﷺ نے فرمایا: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ هَذَا وَشِيعَتَهُ لَهُمُ الْفَائِزُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» اور یہ آیت نازل ہوئی: ﴿ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ ﴾ (١)۔
اور ابن عدی نے ابن عباس سے روایت کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ... ﴾ (١) تو رسول اللہ ﷺ نے علی علیہ السلام سے فرمایا: «هُوَ أَنْتَ وَشِيعَتُكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَاضِينَ مَرْضِيِّينَ»۔
اور ابن مردویہ نے علی علیہ السلام سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: «أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ اللَّهِ: ﴿ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ ﴾ (١) أَنْتَ وَشِيعَتُكَ، وَمَوْعِدِي وَمَوْعِدُكُمُ الْحَوْضُ، إِذَا جَاءَتِ الْأُمَمُ لِلْحِسَابِ تُدْعَوْنَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ»۔ یہاں تک سیوطی کی حدیث ختم ہوئی۔ (٢)
اور ابن حجر نے اپنی (صواعق) میں بعض ان احادیث کو دارقطنی سے روایت کیا ہے، اور انہوں نے ام سلمہ سے بھی روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «يَا عَلِيُّ أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ فِي الْجَنَّةِ» (٣)۔
اور (نهاية ابن الأثير) میں مادہ (قمح) کے تحت درج ہے: حدیث علی علیہ السلام میں کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: «سَتَقْدَمُونَ عَلَى اللَّهِ أَنْتَ وَشِيعَتُكَ رَاضِينَ مَرْضِيِّينَ، وَيَقْدَمُ عَلَيْهِ عَدُوُّكَ غِضَابًا مُقَمَّحِينَ» پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اپنی گردن کی طرف جمع کیا تاکہ انہیں (قمح) کا طریقہ دکھائیں (٤)۔
اور مجھے یاد ہے کہ یہ حدیث ابن حجر نے (صواعق) میں اور دوسرے جماعت نے دوسری طرق سے بھی روایت کی ہے جو محدثین کے نزدیک اس کی شہرت پر دلالت کرتی ہیں (٥)۔
اور زمخشری (ربيع الأبرار) میں رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: «يَا عَلِيُّ، إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَخَذْتُ بِحُجْزَةِ اللَّهِ تَعَالَى، وَأَخَذْتَ أَنْتَ بِحُجْزَتِي، وَأَخَذَ وُلْدُكَ بِحُجْزَتِكَ، وَأَخَذَتْ شِيعَةُ وُلْدِكَ بِحُجْزَتِهِمْ، فَتَرَى أَيْنَ يُؤْمَرُ بِنَا» (٦)۔
اور اگر کوئی متتبع کتب حدیث مثلاً مسند امام احمد بن حنبل، خصائص النسائی اور ان جیسی دوسری کتب کا رخ کرے تو اس کے لیے اس مقدار سے کئی گنا زیادہ جمع کرنا آسان ہوگا۔

جب خود شریعت اسلامیہ کے مالک ﷺ بار بار شیعہ علی علیہ السلام کا ذکر کرتے ہیں اور انہیں اس بات سے نوازتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن امن والے، کامیاب اور راضی و مرضی والے ہیں، اور کوئی شک نہیں کہ ہر شخص جو آپ کی نبوت کا معتقد ہے، آپ کو اس قول میں سچا مانتا ہے، اور یہ کہ آپ ﷺ خواہش سے نہیں بولتے، یہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے (٧)، تو اگر نبی ﷺ کے تمام صحابہ شیعہ علی علیہ السلام نہ بن سکے تو فطری اور ضروری طور پر ان کلمات نے ان میں سے ایک جماعت کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی کہ وہ ان لوگوں میں شامل ہوں جن پر یہ وصف اپنے حقیقی معنی میں صادق آتا ہو، نہ کہ محض توسع اور تاویل کے ذریعے۔
ہاں، ایسا ہی تھا، کیونکہ ایک قابلِ ذکر تعداد نے نبی ﷺ کی زندگی میں ہی علی علیہ السلام کو خاص کیا اور ان کے ساتھ لازم رہے، اور انہیں امام اور رسول کی طرف سے مبلغ، ان کی تعلیمات، احکام اور حکمتوں کے اسرار کا شارح اور مفسر بنایا، اور یہ لوگ "شیعہ علی علیہ السلام" کے نام سے مشہور ہوئے جیسا کہ اہل لغت نے اس پر نص کیا ہے۔ ملاحظہ کریں النہایہ (٨) اور لسان العرب (٩) اور دیگر (١٠) تو آپ پائیں گے کہ وہ اس بات پر نص کرتے ہیں کہ یہ نام علی علیہ السلام اور ان کی اولاد اور ان کے موالیوں کے پیروکاروں پر غالب آیا، یہاں تک کہ ان کا خاص نام بن گیا۔
اور یہ بات وضاحت سے بے نیاز ہے کہ اگر صاحب رسالت ﷺ کا شیعہ علی علیہ السلام سے مراد وہ شخص ہوتا جو ان سے محبت کرتا ہو یا ان سے بغض نہ رکھتا ہو ـ جیسا کہ بعض ناقص الفہم نے گمان کیا ـ کہ یہ بیشتر مسلمانوں پر صادق آتا، تو لفظ (شیعہ) کا استعمال درست نہ ہوتا، کیونکہ محض کسی شخص کی محبت یا اس کی عداوت نہ رکھنا اس کے شیعہ ہونے کے لیے کافی نہیں، بلکہ اس میں ایک اضافی خصوصیت ضروری ہے، وہ اس کی اقتدا اور پیروی، بلکہ متابعت کا التزام بھی، اور یہ بات ہر اس شخص کو معلوم ہے جسے عربی الفاظ کے استعمالات کا معمولی سا بھی ذوق ہو، اور اگر دوسرے معنی میں استعمال کیا جائے تو وہ مجاز ہے جس پر حال یا مقال کی قرینہ دلالت کرتی ہے۔
اور مختصر یہ کہ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی منصف ان احادیث اور ان جیسی دوسری احادیث کے اس مفہوم کا انکار کر سکے گا کہ ان سے مسلمانوں کی ایک خاص جماعت مراد ہے جن کی علی علیہ السلام سے ایک خاص نسبت ہے، جس سے وہ دوسرے مسلمانوں سے ممتاز ہیں جن میں اس زمانے میں کوئی ایسا نہ تھا جو علی سے محبت نہ کرتا ہو، بلکہ بعض تو ان سے بغض رکھتے تھے۔
اور میں یہ نہیں کہتا کہ دوسرے صحابہ ـ جو اکثریت ہیں اور جنہوں نے یہ خصوصیت حاصل نہیں کی ـ نے نبی ﷺ کی مخالفت کی اور آپ کی ہدایت کو نہیں اپنایا، ہرگز نہیں، اور اللہ کی پناہ کہ ان میں ایسا گمان کیا جائے، وہ اس وقت روئے زمین پر بہترین لوگ تھے، لیکن شاید ان تمام کلمات کو انہوں نے نہیں سنا، اور جنہوں نے کچھ سنا بھی تو انہوں نے اس کے مقصد کی طرف توجہ نہیں دی، اور نبی ﷺ کے کبار صحابہ اس مقام سے بہت بلند ہیں کہ وہم کی چھوٹی چڑیاں ان کے مقام کی بلندی تک پرواز کر سکیں (١١)۔

پھر صاحب شریعت ﷺ اس بیج کی آبیاری اور اسے اپنے کلمات اور اشارات کے میٹھے پانی سے سیراب کرتے رہے، ان احادیث میں جو ائمہ حدیث اہل سنت کے ہاں مشہور ہیں، شیعہ کی طرف تو کجا، اور ان میں سے اکثر صحیحین میں مروی ہیں، جیسے آپ کا فرمان: «عَلِيٌّ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى» (١٢)۔
اور جیسے: «لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ» (١٣)۔
اور حدیث طائر میں: «اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ» (١٤)۔
اور جیسے: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ» (١٥)۔
اور جیسے: «إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ: كِتَابَ اللَّهِ، وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي» (١٦)۔
اور «عَلِيٌّ مَعَ الْحَقِّ وَالْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ» (١٧)۔
اور ان جیسی بہت سی احادیث جن کی تعداد اور اسناد کو ثابت کرنا ہمارا مقصود نہیں، اور اس سلسلے میں امامیه کی موسوعات نے ہمیں کافی کر دیا ہے، چنانچہ عالم ربانی سید حامد حسین اللكهنوري نے ایک کتاب تصنیف کی ہے جس کا نام (عبقات الأنوار) ہے جو دس جلدوں سے زیادہ ہے، ہر جلد تقریباً صحیح بخاری کے برابر، جس میں انہوں نے ان احادیث کی اسناد کو ان کی قوم کے معتبر طریقوں سے اور ان کے مدلولات کو ثابت کیا ہے، اور یہ ان ہزاروں میں سے ایک ہے جو ان سے پہلے اور بعد میں آئے۔
پھر جب رسول اللہ ﷺ اس دار سے دار القرار کی طرف کوچ کر گئے، اور صحابہ میں سے ایک جماعت نے دیکھا کہ خلافت علی علیہ السلام کو نہ دی جائے، یا تو ان کی کم سنی کی وجہ سے!! یا اس لیے کہ قریش نے ناپسند کیا کہ نبوت اور خلافت بنی ہاشم میں جمع ہو جائیں، اس گمان پر کہ نبوت اور خلافت ان کے پاس ہے جہاں چاہیں رکھیں!! یا دیگر وجوہات جن کی تحقیق ہمارا موضوع نہیں، لیکن دونوں فریقوں کے اتفاق سے وہ پہلے بیعت سے امتناع کرتے رہے، بلکہ صحیح بخاری میں ـ باب غزوہ خیبر میں ـ ہے کہ انہوں نے چھ ماہ بعد بیعت کی (١٨)۔
اور ان کے ساتھ صحابہ کی اکابرین میں سے ایک جماعت نے بھی اس کی پیروی کی، جیسے زبیر، عمار، مقداد اور دیگر (١٩)۔
پھر جب انہوں نے دیکھا کہ ان کا پیچھے ہٹنا اسلام میں ایسا شگاف ڈالے گا جو نہیں بھر سکتا، اور ایسی شگستگی جو جبر نہیں پا سکتی، اور ہر شخص جانتا ہے کہ علی خلافت کا طلبگار امارت کی رغبت میں نہیں تھے، نہ بادشاہت، غلبہ اور استیلا کے حرص میں، اور ذی قار میں ابن عباس کے ساتھ ان کا مشہور گفتگو ہے (٢٠)، بلکہ وہ صرف اسلام کو مضبوط کرنا، اس کا دائرہ وسیع کرنا، اس کا سایہ پھیلانا، حق قائم کرنا اور باطل کو ختم کرنا چاہتے تھے۔
اور جب انہوں نے دیکھا کہ پیچھے رہ جانے والے (٢١) ـ یعنی پہلے اور دوسرے خلیفہ ـ نے کلمہ توحید کی اشاعت، لشکروں کی تیاری اور فتوحات میں وسعت کے لیے انتہائی کوشش کی، اور انہوں نے اثرو استبداد نہیں کیا، تو انہوں نے بیعت کی اور مصالحت کی، اور جو وہ اپنا حق سمجھتے تھے اس پر آنکھیں بند کیں، اسلام کی وحدت کے تحفظ کے لیے کہ کہیں اس میں شگاف نہ پڑ جائے، اس کا کلمہ منتشر نہ ہو جائے، اور لوگ اپنی پہلی جاہلیت کی طرف لوٹ جائیں۔
اور ان کے شیعہ ان کے سائے تلے جمع رہے اور ان کے چراغ سے روشن ہوتے رہے (٢٢)، اور اس وقت شیعہ اور تشیع کو ظہور کا کوئی میدان نہیں تھا، کیونکہ اسلام اپنے سیدھے راستوں پر چل رہا تھا، یہاں تک کہ جب حق باطل سے الگ ہو گیا، اور رشد سے گمراہی واضح ہو گئی، اور معاویہ نے علی علیہ السلام کی بیعت سے انکار کر دیا اور صفین میں ان سے جنگ کی، تو باقی صحابہ علی علیہ السلام کے ساتھ شامل ہو گئے یہاں تک کہ ان میں سے زیادہ تر آپ کے پرچم تلے مارے گئے (٢٣)، اور آپ کے ساتھ نبی ﷺ کے عظیم صحابہ میں سے اسی آدمی تھے، جن میں تمام بدری عقبی تھے: جیسے عمار بن یاسر، خزیمہ ذو الشهادتين، ابو ایوب انصاری اور ان کے ہم رتبہ۔
پھر جب علی علیہ السلام شہید ہوئے اور معاویہ کا معاملہ مستحکم ہوا اور خلفائے راشدین کا دور ختم ہوا، تو معاویہ نے مسلمانوں پر جباروں کی سی روش اختیار کی، اور استبداد اور استیلا کیا، اور شریعت اسلام میں ایسے کام کیے جن کی اس مقام پر تعداد ممکن نہیں، لیکن مسلمانوں کے اتفاق سے وہ اپنے سے پہلے خلفاء کی سیرت کے خلاف چلا، اور امت پر زبردستی غالب آیا، اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے احوال اور ان کے تمام شؤون میں ان کے طور طریقے زہد، ورع، زندگی کی سختی، اور ان کے اقوال و افعال میں کسی قسم کی مخادعت اور مداہنت سے عاری تھے، جبکہ معاویہ کے تمام طریقے اس کے بالکل برعکس تھے۔
اور مصر کو ابن عاص کو غدر اور خیانت پر دینے کا واقعہ مشہور ہے (٢٤)، اور امت کو یزید کی بیعت پر مجبور کرنا (٢٥)، اور زیاد کا الحاق مشہور ترین ہے (٢٦)، اور دسترخوانوں اور عمدہ کھانوں کی اقسام میں وسعت معلوم ہے، اور یہ سب امت کے اموال اور مسلمانوں کے فیء میں سے تھا جو پچھلے دو خلفاء (٢٧) اسلحہ، گھوڑے اور لشکر پر خرچ کرتے تھے۔

اور ہم سے وزیر ابو سعید منصور بن الحسین اللآبی متوفی (۴۲۲ھ) اپنی کتاب (نثر الدرر) میں بیان کرتے ہیں کہ:
احنف بن قیس نے کہا: میں معاویہ کے پاس آیا تو اس نے میرے سامنے گرم اور ٹھنڈا، میٹھا اور کھٹا پیش کیا جس پر مجھے بہت تعجب ہوا، پھر اس نے ایک قسم پیش کی جسے میں نہیں پہچانتا تھا، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟
اس نے کہا: یہ بطخ کی آنتیں ہیں جو مغز سے بھری ہوئی ہیں، پستے کے تیل میں تلی گئی ہیں اور اس پر طبرزد چھڑکا گیا ہے۔
تو میں رو پڑا، اس نے پوچھا: تمہیں کیا رلا رہا ہے؟
میں نے کہا: مجھے علی یاد آئے، جب میں ان کے پاس تھا اور کھانے اور افطار کا وقت آیا ـ اور انہوں نے مجھ سے ٹھہرنے کو کہا ـ تو ان کے لیے ایک بند تھیلا لایا گیا، میں نے پوچھا: اس تھیلے میں کیا ہے؟
انہوں نے کہا: جو کی ستو۔
میں نے پوچھا: کیا آپ کو ڈر تھا کہ اسے چرا لیا جائے گا یا آپ نے اس پر بخل کیا؟
انہوں نے کہا: نہیں اور نہ ہی دونوں میں سے کوئی، بلکہ مجھے ڈر تھا کہ حسن اور حسین اس میں گھی یا تیل ملا دیں گے۔
تو میں نے کہا: کیا یہ حرام ہے یا امیرالمؤمنین؟
وہ گھبرا گئے اور بولے: نہیں، لیکن حق کے ائمہ پر لازم ہے کہ وہ خود کو کمزور لوگوں کے برابر رکھیں تاکہ فقر فقیر کو سرکش نہ کر دے۔
تو معاویہ نے کہا: تم نے ایسے شخص کا ذکر کیا جس کی فضیلت کا انکار نہیں کیا جا سکتا (٢٨)۔
اور تم زمخشری کے (ربيع الأبرار) اور اس جیسی دوسری کتابوں میں اس نادرہ کی بہت سی نظیریں پاؤ گے (٢٩)۔

یہ سب اس حال میں تھا کہ لوگ نبی اور خلفاء سے قریب العہد تھے، اور دنیا کی آرائشوں اور خواہشات سے دوری کے اس طریقے پر تھے، پھر معاویہ کا انجام یہ ہوا کہ اس نے حسن علیہ السلام کو زہر دلوایا اور قتل کر دیا (٣٠)، اس کے بعد اس نے ہر عہد اور شرط کو توڑ دیا جو اس نے اللہ سے اپنے لیے عہد کیا تھا (٣١)، پھر اس نے اپنے بیٹے یزید کے لیے زبردستی بیعت لی، اور اس کا حال اس وقت امت کے نزدیک اس سے زیادہ معلوم ہے جو آج ہم کو معلوم ہے۔
پس اسی اور اس جیسی اور بھی وجوہات سے مسلمانوں کے دلوں میں اس کے لیے بغض اور کراہت پیدا ہوئی، اور انہوں نے جان لیا کہ وہ ایک دنیاوی شخص ہے جس کا دین سے کوئی تعلق نہیں، اور زمخشری نے (ربیعہ) میں ہم سے جو اس کے اپنے بارے میں حدیث بیان کی ہے وہ کتنی سچی ہے، اس نے کہا: معاویہ نے کہا: رہا ابوبکر تو وہ دنیا سے بچ گیا اور دنیا اس سے بچ گئی، اور رہا عمر تو اس نے دنیا کو جھیلا اور دنیا نے اسے جھیلا، اور رہا عثمان تو اس نے دنیا سے حاصل کیا اور دنیا نے اس سے حاصل کیا، اور رہا میں تو میں نے اسے پیٹ کے بل بچھا لیا، اور میں اس کی طرف منقطع ہوا اور وہ میری طرف منقطع ہوئی (٣٢)۔
اور اسی دن سے ـ یعنی معاویہ اور یزید کی خلافت کے دن سے ـ مدنی (دنیاوی) اقتدار دینی اقتدار سے الگ ہو گیا، جبکہ وہ پہلے خلفاء میں جمع تھے، چنانچہ خلیفہ ان میں سے ایک کو دائیں اور دوسرے کو بائیں ہاتھ سے پکڑتا تھا، لیکن معاویہ کے عہد سے انہوں نے جان لیا کہ اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں، اور یہ کہ دین کے ائمہ اور مراجع وہی ہیں جو اس کے اہل اور حقدار ہیں، اور انہوں نے علی علیہ السلام اور ان کی اولاد کے سوا کسی کو امامت کے شرائط ـ علم، زہد، شجاعت، حسب اور نسب کی شرافت ـ میں مکمل نہیں پایا۔
اس میں صحابہ کا لوگوں کو نبی ﷺ کے کلمات ان کے حق میں روایت کرنا اور ان کی احقیت کی طرف اشارہ بھی شامل تھا، چنانچہ علی علیہ السلام اور ان کی اولاد کے لیے تشیع، اس اور اس جیسی وجوہات سے، پوری امت اسلامیہ میں اس طرح پھیلتا اور سرایت کرتا رہا جیسے بیماری کے جسم میں برء (شفا) سرایت کرتی ہے، پوشیدہ اور ظاہر، مخفی اور آشکارا۔
پھر اس کے بعد حسین علیہ السلام کی شہادت اور طف (کربلا) میں ان پر جو گزری، جس نے دلوں کو توڑ دیا اور نفوس میں ان کے لیے خون کے زخم چھوڑ دیے، اور وہ رسول اللہ ﷺ کے فرزند اور ریحانہ تھے، اور صحابہ کے باقی افراد: جیسے زید بن ارقم، جابر بن عبداللہ انصاری، سہل بن سعد ساعدی، انس بن مالک، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی ان اور ان کے بھائی کے ساتھ خوش رفتگی کو دیکھا تھا اور کس طرح آپ انہیں اٹھاتے اور فرماتے: «نِعْمَ الْمَطِيَّةُ مَطِيَّتُكُمَا، وَنِعْمَ الرَّاكِبَانِ أَنْتُمَا۔ وَأَنَّهُمَا سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ» (٣٣)، اور اس جیسی بہت سی باتیں، وہ امت کے درمیان رہ کر ان احادیث کو پھیلاتے اور ان فضائل کو نشر کرتے رہے، جبکہ بنو امیہ ان کے خون میں لت پت تھے، اور انہیں قتل، زہر اور قید کے ذریعے نشانہ بناتے تھے۔
یہ سب فطری طور پر تشیع کے پھیلاؤ اور اشاعت میں اضافہ کرتا تھا، اور علی علیہ السلام اور ان کی اولاد کو دلوں میں عظیم مقام عطا کرتا تھا، اور محبت کا بیج دلوں میں بوتا تھا، اور مظلومیت ـ جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے ـ کا سب سے بڑا دخل ہے۔
چنانچہ بنو امیہ جب بھی ظلم اور استبداد کرتے، اثرو استیلا کرتے اور بادشاہت کے لیے آپس میں لڑتے، تو یہ سب اہل بیت علیہم السلام کی خدمت اور ان کے امر کی ترویج اور دلوں کو ان کی طرف مائل کرنے کا سبب بنتا، اور جب بھی وہ اپنے شیعوں اور موالیوں پر دباؤ ڈالتے، اور اپنے منبروں پر علی علیہ السلام کو سب و شتم کا اعلان کرتے اور ان کی فضیلتوں کو چھپا کر انہیں معائب میں تبدیل کرتے، تو معاملہ الٹ جاتا اور ان پر رد عمل بن جاتا۔
کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو شعبی نے اپنے بیٹے سے کہی: اے میرے بیٹے! دین نے جو کچھ بنایا اسے دنیا نے گرا دیا، اور دنیا نے جو کچھ بنایا اسے دین نے گرا دیا۔ علی علیہ السلام اور ان کی اولاد کی طرف دیکھو، بنو امیہ ان کی فضیلتوں کو چھپانے اور ان کے امر کو مخفی رکھنے میں کوشاں رہے، گویا وہ ان کا بازو پکڑ کر آسمان کی طرف اٹھا رہے ہیں، اور وہ اپنے اسلاف کی فضیلتیں پھیلانے میں مصروف رہے، گویا وہ ان کی لاش پھیلا رہے ہیں۔
یہ اس حال میں کہ شعبی ان لوگوں میں تھا جن پر علی علیہ السلام سے بغض کا الزام تھا (٣٤)۔
لیکن زمخشری ہمیں اس کے بارے میں (ربیعہ) میں بتاتے ہیں کہ وہ کہتے تھے: ہم نے علی علیہ السلام سے یہ پایا کہ اگر ہم ان سے محبت کریں تو قتل کر دیئے جائیں اور اگر ہم ان سے بغض کریں تو ہلاک ہو جائیں (٣٥)۔
یہاں تک کہ سفیانی دور ختم ہوا اور اس کی جگہ مروانی دور آیا (٣٦)، جس کے سربراہ عبدالملک تھے، اور تم کیا جانتے ہو کہ عبدالملک کیا تھا؟ اس نے حجاج کو اپنے حکم سے کعبہ پر منجنیقیں نصب کرنے کے لیے بھیجا یہاں تک کہ اسے گرا دیا اور جلا دیا، پھر اس کے باشندوں کو قتل کیا، اور عبداللہ بن زبیر کو مسجد حرام میں کعبہ اور مقام کے درمیان ذبح کیا، اور حرم کی حرمت کی خلاف ورزی کی جسے جاہلیت بھی تعظیم کرتی تھی اور اس میں وحشیوں کے خون کو بھی حلال نہیں سمجھتی تھی، انسانی خون تو کجا، اور اس نے اپنے چچا زاد بھائی عمرو بن سعید اشدق کو اللہ کا عہد اور میثاق دینے کے بعد غدراً اور دغا سے قتل کیا، یہاں تک کہ عبدالرحمن بن الحکم نے اس پر اشعار کہے:
غَدَرْتُمْ بِعَمْرٍو يَا بَنِي خَيْطِ بَاطِلٍ ** وَمِثْلُكُمْ يَبْنِي الْعُهُودَ عَلَى الْغَدْرِ (٣٧)
تو کیا یہ اعمال اس شخص کو مسلمان ہونے کی گنجائش دیتے ہیں، بھلا خلیفہ مسلمین اور امیرالمؤمنین ہونے کی تو کجا؟!
پھر مروانیوں کی تمام سلسلہ اسی سیرت پر چلی، بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت اور تلخ، سوائے اس عبدالصالح عمر بن عبدالعزیز کے۔
پھر اس کے بعد عباسی دور آیا، جس نے ـ جیسا کہ کہا جاتا ہے ـ تنبور میں نغمات بڑھا دیئے، یہاں تک کہ دونوں دوروں کے ایک معمر شاعر نے کہا:
يَا لَيْتَ جَوْرَ بَنِي مَرْوَانَ دَامَ لَنَا ** وَلَيْتَ عَدْلَ بَنِي الْعَبَّاسِ فِي النَّارِ
اور انہوں نے اپنے چچا زاد بھائیوں یعنی علوی ذریوں کا تعاقب کیا، اور انہیں ہر پتھر اور مٹی کے نیچے قتل کیا، ان کے گھر خراب کیے، اور ان کے آثار مٹا دیئے، یہاں تک کہ شعراء نے متوکل کے دور میں کہا:
تَاللهِ إِنْ كَانَتْ أُمَيَّةُ قَدْ أَتَتْ ** قَتْلَ ابْنِ بِنْتِ نَبِيِّهَا مَظْلُومًا
فَلَقَدْ أَتَتْهُ بَنُو أَبِيهِ بِمِثْلِهِ ** هَذَا لَعَمْرُكَ قَبْرُهُ مَهْدُومًا
أَسَفُوا عَلَى أَلَّا يَكُونُوا شَارَكُ ** وا فِي قَتْلِهِ فَتَتَبَّعُوهُ رَمِيمًا (٣٨)

اس کے مقابلے میں بنی علی علیہ السلام کی سیرت رکھو اور اسے مروانیوں اور عباسیوں کی سیرت سے نسبت دو، تو وہاں تشیع کے پھیلاؤ کی وجوہات میں حقیقت تم پر روشن ہو جائے گی،
اور تم ان بیوقوفوں کی بےحقیقت جان لو گے جو کہتے ہیں کہ یہ فارسی یا سبائی یا کوئی اور نزعہ ہے، وہاں تم جان لو گے کہ یہ خالص محمدی اسلامی ہے۔
ان ادوار میں بنی علی علیہ السلام کی طرف دیکھو کہ وہ کس حال میں تھے، ان کی طرف دیکھو جن کے سربراہ امام زین العابدین علیہ السلام تھے، کہ انہوں نے اپنے والد کی شہادت کے بعد دنیا اور اس کے لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کی، اور عبادت، اخلاق کی تربیت، نفس کی اصلاح اور دنیا کے مٹی کے ڈھیر سے زہد میں مشغول ہو گئے، اور انہوں نے ہی تابعین کی ایک جماعت کے لیے یہ راستہ کھولا: جیسے حسن بصری، طاووس یمانی، ابن سیرین، عمرو بن عبید اور ان جیسے زاہدین اور عرفا، اس وقت جب لوگوں کے دلوں سے حق کی پہچان تقریباً ختم ہو چکی تھی، اور اللہ کے ذکر کا کوئی اثر ان کی زبانوں کے سوا باقی نہیں رہا تھا، پھر یہ سلسلہ ان کے بیٹے محمد باقر علیہ السلام اور ان کے پوتے جعفر صادق علیہ السلام تک پہنچا، جنہوں نے اس عمارت کو قائم کیا۔
اور بنو امیہ اور بنو عباس کی حکومتوں کے درمیان کا وقفہ آیا، جس میں صادق علیہ السلام کے لیے میدان وسیع ہوا، ظلم کا بھوت اور تقیہ کا پردہ اٹھ گیا، تو آپ نے الہی احکام کو پھیلانے اور نبوی احادیث کو نشر کرنے میں وسعت کی جو آپ نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے دادا سے، انہوں نے امیرالمؤمنین سے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک صاف چشمے سے حاصل کی تھیں، اور شیعہ اس دور میں ایسے ظاہر ہوئے جس کی نظیر اپنے آباء کے گزرے ہوئے ایام میں نہ تھی، اور وہ آپ سے حدیث حاصل کرنے میں سرگرم ہو گئے، اور ان کی کثرت اس حد تک پہنچی کہ شمار سے باہر تھی، یہاں تک کہ ابو الحسن الوشاء نے کوفہ کے بعض اہل سے کہا: میں نے اس جامع میں ـ یعنی مسجد کوفہ میں ـ چار ہزار بوڑھے دیکھے جو اہل ورع اور دین تھے، ہر ایک کہتا تھا: مجھ سے جعفر بن محمد نے حدیث بیان کی (٣٩)۔
اور ہم اس پر شواہد ذکر کر کے مقصد سے نہیں بھٹکنا چاہتے؛ حالانکہ یہ معاملہ گرمیوں کی دھوپ سے بھی زیادہ واضح ہے۔
اور کوئی غور کرنے والا اس میں شک نہیں کرتا کہ بنو امیہ اور بنو عباس کا اپنی سلطنت کو مضبوط کرنے، اپنے مخالفین سے جنگ کرنے، دنیا کی نعمتوں میں غرق ہونے، اور ملہیات و مطربات کا اظہار کرنے میں مشغول ہونا، اور بنی علی علیہ السلام کا علم، عبادت، ورع، دنیا اور اس کی خواہشات سے کنارہ کشی اور سیاست کے کسی شان میں مداخلت نہ کرنا ـ حالانکہ سیاست جھوٹ، مکر اور دھوکے کے سوا کیا ہے؟ ـ یہ سب وہی ہے جس نے مذہب تشیع کے پھیلاؤ اور اس پر بڑی جماعت کا اقبال کرنا موجب بنایا۔
اور یہ واضح اور ضروری ہے کہ اگرچہ لوگوں کے دلوں میں دنیا کی محبت اور مال کی طلب غالب ہو اور ان کی خواہشات پر قابض ہو، لیکن اس کے باوجود علم اور دین کا ان کے دلوں میں مضبوط مقام اور بلند مرتبہ ہے، خاص طور پر جب نبووت کا عہد قریب ہو اور اسلام کا آغاز وسیع ہو جو دنیا کے حصول کو اس کے جائز راستوں سے نہیں روکتا، خاص طور پر جب وہ صاف دیکھ رہے تھے کہ یہی دین اسلام ہے جس نے ان پر خیرات کے تھنے جھاڑے، برکتیں برسائیں، کسریٰ اور قیصر کی بادشاہتیں ان کے لیے ذلیل کیں، اور مشرق و مغرب کے خزانوں کی کنجیاں ان کے ہاتھ میں دیں، اور اس کا کچھ حصہ تو کجا، بلکہ سارا کچھ عرب خواب میں بھی نہیں دیکھ سکتے تھے، چہ جائیکہ دن اسے حقیقت میں لے آئیں، اور یہ سب ان میں دین کے لیے شدید رغبت، اس کے احکام سیکھنے، اور اس کے راستوں پر چلنے کی ترغیب دیتا تھا، خواہ اجتماعی نظام، خاندانی انتظام، نسب کی پاکیزگی اور اس جیسی چیزوں میں، ناچار وہ ان شرائع اور احکام کو شدت سے تلاش کرتے تھے، اور کئی بار انہیں ان پچھڑے ہوئے لوگوں کے پاس نہیں پاتے تھے جن میں سے ہر ایک امیرالمؤمنین اور خلیفہ مسلمین کا لقب رکھتا تھا!!
ہاں، انہوں نے اسے مکمل، صحیح اور پورا اہل بیت کے پاس پایا، چنانچہ وہ ان کی طرف جھکے، اور ان کی امامت کا اعتقاد رکھنے لگے، اور یہ کہ وہ واقعی رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ ہیں، اور آپ کی شریعت کے خادم ہیں، اور آپ کے احکام کو آپ کی امت تک پہنچانے والے ہیں۔ اور یہ ایمانی عقیدہ اور الہی عاطفہ بعض شیعوں کے دلوں میں آگ کے شعلے کی طرح تھا، جو انہیں خطرات مول لینے، پھانسی کے تختوں پر خود کو پیش کرنے، اپنی گردنیں حق کے لیے قربانی اور دین کے لیے نذر کرنے پر آمادہ کرتا تھا۔
اس مقام پر اپنی نظر حجر بن عدی کندی، عمرو بن حمق خزاعی، رشید ہجری، میثم تمار، عبداللہ بن عفيف ازدی، اور ان جیسے سیکڑوں افراد کی طرف موڑو، دیکھو کہ کس طرح انہوں نے گمراہی اور ظلم کی چٹان کو ٹکر ماری اور اپنے سروں کو نہیں توڑا حتیٰ کہ اسے توڑ ڈالا اور اسے پاش پاش کر دیا، اور لوگوں کے سامنے اس کی برائیوں کا اعلان کیا، تو کیا یہ دلیری اور قربانی ان شیروں کی طرف سے مال کی طمع، اہل بیت علیہم السلام کے ہاں جاہ کی خواہش، یا ان سے خوف کی وجہ سے تھی حالانکہ وہ خود اس وقت خائف اور بےآسرا تھے؟! ہرگز نہیں، بلکہ یہ حق کا عقیدہ، ایمان کی فطرت اور یقین کی چٹان تھی۔
پھر پہلی اور دوسری صدی کے عظیم شعراء کو دیکھو، اپنے زمانے کے بادشاہوں کے ہاں شدید لالچ اور ان سے خوف کے باوجود، اس سب نے انہیں بڑی لالچ اور خوف ـ اور شاعر اکثر مادی ہوتا ہے، اور حکومت اس کے پیچھے ہوتی ہے اور تلواریں ان کے سروں پر کھڑی ہوتی ہیں ـ اس سے نہیں روکا کہ وہ حق کا اظہار اور اس کی مدد کریں، اور باطل سے جہاد کریں اور اسے بےنقاب کریں۔
فرزدق سے لے کر کمیت تک، سید حمیری تک، دعبل تک، دک الجن تک، ابو تمام تک، بحتری تک، امیر ابو فراس حمدانی صاحب الشافیہ تک:
الدِّينُ مُخْتَرَمٌ وَالْحَقُّ مُهْتَضَمُ ** وَفَيْءُ آلِ رَسُولِ اللَّهِ مُقْتَسَمُ
آخر قصیدہ تک، اسے دیکھو اور دیکھو کہ وہ اس میں کیا کہتا ہے (٤٠)۔
بلکہ ان ادوار کے ہر نابغہ روزگار شاعر کے پاس مدح ائمہ حق میں گرج دار قصیدے اور عبقری مقاطع ہیں، اور اپنے زمانے کے بادشاہوں پر ظلم و جور کی مذمت، اور ان اولیاء کے لیے ولاء اور ان سے براء کا اظہار ہے۔
چنانچہ دعبل کہتا تھا: میں چالیس سال سے اپنی لکڑی اپنی پیٹھ پر اٹھائے پھرتا ہوں، لیکن مجھے کوئی ایسا نہیں ملا جو مجھے اس پر صلہ دے۔ اور اس نے رشید، امین، مامون اور معتصم کی ہجو کی تھی، اور صادق، کاظم اور رضا کی مدح کی، اور اس کی اشعار اس سلسلے میں مشہور ہیں اور کتب ادب و تاریخ میں درج ہیں (٤١)۔
یہ سب بنو امیہ اور بنو عباس کی طاقت اور سختی کے ایام میں ہے، پس دیکھو حق اور یقین مسلمانوں کے نفوس پر کیا اثر ڈالتے ہیں، اور وہاں شجاعت، بہادری، جانثاری اور قربانی کے حقیقی معنی جانتے ہیں، اور یہ ایک لمبی بحث ہے جو اگر ہم اسے پوری طرح بیان کریں تو سیلاب کی طرح بہہ جائے، اور یہ اس وقت مقصود بیان نہیں، بلکہ مقصود تشیع کے درخت کا مبدأ اور اسلام کے باغ میں اس کا بونے والا بیان کرنا، اور اس کے اگنے، بڑھنے، بلندی اور عروج کی وضاحت کرنا ہے۔ اور میں نے کوئی جذباتی بات نہیں کی، بلکہ ایک محقق کی طرح جس کا چلنا موجودہ حقائق، معلوم علل اور اسباب کی روشنی میں ہو، اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کی توفیق سے میں نے اس کی وضاحت کر دی ہے اور اسے اس کا حق دیا ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔
پھر یہ بات تم سے پوشیدہ نہ رہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان خلفاء کی نیکیوں اور اسلام کی بعض خدمات کا انکار کرنا چاہتے ہیں، جن کا انکار صرف ایک ہٹ دھرم شخص کر سکتا ہے، اور ہم بحمداللہ ہٹ دھرموں میں شامل نہیں، نہ گالی دینے والے ہیں نہ سب و شتم کرنے والے، بلکہ ہم نیکی کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور برائی سے چشم پوشی کرتے ہیں، اور ہم کہتے ہیں: یہ ایک امت تھی جو گزر گئی، اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا اور اس پر وہ ہے جو اس نے کسب کیا، اور ان کا حساب اللہ پر ہے، اگر وہ معاف کرے تو اس کے فضل سے، اور اگر سزا دے تو اس کے عدل سے، اور ہم اس قلم کو یہ باتیں لکھنے کی اجازت نہ دیتے اگر ہم عصر کے بعض مصنفین اپنے سخت تعصب کے ذریعہ شیعوں پر ہمیں مجبور نہ کرتے اور انہیں پھیلانے کی ضرورت پیش نہ آتی (مصدور کی آہ)، اور خالص مقصد صرف تشیع کے بیج کے بونے والے کی نشاندہی تھی، اور تم جان چکے کہ وہ نبی امین ﷺ ہیں، اور اس کے پھیلنے اور پھلنے کے اسباب ایک دوسرے سے جڑی ہوئی چیزوں کا سلسلہ ہیں، جو فطری طور پر اس اثر کا تقاضا کرتی ہیں (٤٢)۔
___________________

۱۔ أ. ب. ج. د. القرآن الكريم: سورة البينة (۹۸)، الآية: ۷، الصفحة: ۵۹۸۔
۲۔ الدر المنثور في التفسير بالمأثور ۶: ۳۷۹۔
۳۔ الصواعق المحرقة: ۹۶۔
۴۔ النهاية ۴: ۱۰۶۔
۵۔ ملاحظہ کریں: كتاب فضائل الخمسة من الصحاح الستة للسيد مرتضى الحسيني، وكتاب إحقاق الحق وإزهاق الباطل للسيد التستري، وغيرهما من المصادر المختصة بإيراد هذه الأحاديث الواردة في كتب العامة، حيث تجد الكثير الكثير من هذه الروايات وبطرقها المختلفة۔
۶۔ ربيع الأبرار ۱: ۸۰۸۔
۷۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے اپنے کریم رسول محمد ﷺ کے حق میں سورۃ النجم (۵۳: ۳-۴) میں فرمایا: ﴿ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ  إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ ﴾۔
۸۔ النهاية ۲: ۵۱۹۔
۹۔ لسان العرب ۸: ۱۸۹۔
۱۰۔ القاموس المحيط ۳: ۴۷، أقرب الموارد ۱: ۶۲۷، مجمع البحرين ۴: ۳۵۶، تاج العروس ۵: ۴۰۵۔
۱۱۔ ہاں یقیناً رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو وہ فضیلت اور عظیم مرتبہ حاصل ہے جو کسی پر پوشیدہ نہیں، بلکہ وہ ہمیشہ سے مسلمانوں اور خاص طور پر ابتدائی شیعوں کے ہاں باعث احترام، تعظیم اور تکریم رہے ہیں۔ اور اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں، کیونکہ کتاب اللہ عزوجل ہمیں متعدد مقامات پر ان مؤمن مجاہدین کے بلند مرتبے سے آگاہ کرتی ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اہل بیت کرام کے ساتھ مل کر اسلام کا عظیم شہرہ تعمیر کیا اور اس کے ستون قائم کیے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفتح المبارکہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ... ﴾۔ اور اسی طرح جب آپ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اہل بیت معصومین علیہم السلام کے اقوال کا مطالعہ کریں گے تو یہ بات واضح طور پر نظر آئے گی، اور ہم اس کا دعویٰ بھی نہیں کرتے اور نہ ہی کوئی بناوٹی بات کہتے ہیں… البتہ ہم اس بات سے اتفاق نہیں رکھتے کہ یہ فضیلت رسول اللہ ﷺ کے تمام صحابہ پر بلا تحقیق اور تمیز کے شامل ہو، اور اس میں ہم سے ہر عاقل و منصف جو حقیقت سے آگاہ ہے، متفق ہے۔ کیونکہ قرآن کریم، سنت نبویہ مطہرہ اور ثابت شدہ تاریخی حقائق ہمارے موقف کی صحت اور دوسروں کے موقف کی بطلان کی تائید کرتے ہیں، خواہ وہ ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے یہ صفت سب پر عائد کی، یا جنہوں نے بغیر کسی دلیل یا حجت کے سب پر طعن کیا، اگرچہ پہلی جماعت زیادہ ہے اور یہی وہ رائے ہے جو ہمارے اہل سنت بھائیوں کے ہاں غالب ہے، اور وہ عام مسلمانوں میں زیادہ تر اور وسیع تر طرف ہیں، جبکہ شیعہ مختلف اسلامی مذاہب میں دوسرا بڑا گروہ ہے۔ اور اگر ہم ان سے اس بات میں متفق نہیں کہ تمام صحابہ بلا استثناء اور بغیر کسی بحث کے عادل ہیں، اور اس عدالت کو بعض ان گروہوں پر عائد کرنا جن کا تاریخی طور پر عدالت اسلامی کے تصور سے انحراف ثابت ہے، درست نہیں، تو اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ ہم دوسری جماعت سے متفق ہیں جو تمام صحابہ پر طعن کرتی ہے، کیونکہ یہ ایک بےکار اور فاسد رائے ہے جو قابل بحث نہیں۔ لہٰذا ہماری گفتگو پہلی جماعت کے ساتھ ہوگی، جو شیعوں پر الزام لگاتی ہے کہ وہ صحابہ کی جانچ کے لیے آسمانی منہج اور شرعی معیار کو استعمال کرتے ہیں جو شریعت اسلامیہ نے متکامل اور واضح شکل میں پیش کیا ہے، بغیر کسی اندھی جانب داری یا قابل نفرت تعصب کے، اور اس میں ہمیں وہ صحیح اصول مدد دیتے ہیں جنہیں ہم نے اس صحیح منہج کو اپنانے میں اختیار کیا ہے۔ پس ہم تھوڑی دیر رکیں اور جو کہہ رہے ہیں اس پر غور کریں۔ میں کہتا ہوں: پہلے ہم اس مبارک آیت سے آغاز کریں جو ہم نے پہلے ذکر کی تھی اور جس میں صحابہ کرام کی تعریف ہے۔ یہ مبارک قرآنی آیت ہمارے اس استثنا کی صحت پر واضح دلیل رکھتی ہے جسے ہم پیش کر رہے ہیں اور اس کی تائید کرتی ہے، کیونکہ اس کے آخر میں آیا ہے: ﴿ ... وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا ﴾ تو (منهم) کا لفظ جو تبعیض کے لیے ہے، واضح طور پر دو گروہوں یا طبقوں کے درمیان فرق کی طرف اشارہ کرتا ہے، ایک ایماندار اور عمل صالح کرنے والا، اور دوسرا لازماً اس کے مخالف ہونا چاہیے۔ بلکہ خود اسی سورہ (آیت ۱۰) میں اللہ کا فرمان: ﴿ إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَىٰ نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا ﴾ بھی اسی معیار اور دلالت کا مظہر ہے، اور اس کے علاوہ بھی بہت سی آیات ہیں۔ پھر کیا یہ بات اہل سنت کی صحاح اور دیگر مشہور کتب میں رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ بہت سی اخبار میں متواتر نہیں ہے جو واضح طور پر صحابہ کے ایک معروف اور محترم گروہ کے انحراف کی نشاندہی کرتی ہیں، جن کی پہچان ہے؟ اور ان میں سے آپ کا وہ فرمان ہے جو بخاری (۸: ۱۴۸) میں مروی ہے: «أنا فرطكم على الحوض، وليُرفعنَّ رجالاً منكم ثم ليختلجنَّ دوني، فأقول: ياربِّ أصحابي! فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك»۔ اور اسی طرح مسلم نے اپنی صحیح (۴: ۱۷۹۶) میں اور احمد نے اپنی مسند (۳: ۱۴۰ و ۲۸۱ اور ۵: ۴۸، ۵۰، ۳۸۸، ۴۰۰) میں روایت کیا ہے۔ اور حاکم نیشاپوری نے اپنی مستدرک (۴: ۷۴) میں روایت کیا: «إني - أيها الناس - فرطكم على الحوض، فإذا جئت قام رجل، فقال هذا: يا رسول الله أنا فلان، وقال هذا: يا رسول الله أنا فلان. فأقول: قد عرفتكم، ولكنكم أحدثتم بعدي ورجعتم القهقرى»۔ بلکہ ابن ماجہ نے اپنی سنن میں یہ اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایسے صحابہ کے بارے میں فرماتے ہیں: «سحقاً سحقاً»۔ پھر کیا ہم پر رسول اللہ ﷺ کا وہ حدیث گزری نہیں جو آپ نے ابوبکر کے ساتھ کی تھی - جو صحابہ کے کبار اور اکابر میں سے ہیں - جب آپ ﷺ نے احد کے شہداء کے بارے میں فرمایا: «هؤلاء أشهد عليهم» تو ابوبکر نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم ان کے بھائی نہیں ہیں، ہم نے بھی ان کی طرح اسلام قبول کیا اور ان کی طرح جہاد کیا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: «بلى، ولكن لا أدري ما تحدثون بعدي»۔ ملاحظہ کریں: موطأ مالك ۲: ۴۶۱|۳۲۔ پس غور کریں اور اس حدیث کی دلالت پر تدبر کریں، اور دیکھیں کہ مخاطب کون ہے، تاکہ آپ کو واضح طور پر معلوم ہو جائے کہ ان شرعی معیارات سے کوئی مستثنیٰ نہیں، پس جو شخص رسول اللہ ﷺ کے احکام کی مخالفت کرے اور اپنی خواہش اور شیطان کی خواہش کی پیروی کرے تو شریعت اسلامیہ اسے خارج کرتی ہے، ہم نہیں، اور یہ ایک بدیہی بات ہے جسے میرے خیال میں کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ تو کیا ہم مسلمان آخر زمانہ میں رسول اللہ ﷺ کے ان اقوال کو نظر انداز کر دیں جو اس گروہ کے بارے میں ہیں جنہوں نے بدعات ایجاد کیں، تبدیل کیا، تغیر کیا اور انحراف کیا، تاکہ ہم ان پر رحم کریں، ان کی تعظیم کریں اور انہیں مقدم رکھیں، بغیر کسی شعور، تدبر یا دلیل کے؟! یہ بات کوئی عاقل کبھی نہیں کہہ سکتا۔ پھر میں واپس آ کر پوچھتا ہوں: اہل افک کون تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اذیت دی اور آپ کی ناموس پر الزام لگایا، اور جنہیں اللہ تعالیٰ نے سخت عذاب اور دردناک عقاب کا وعید دیا، کیا وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک گروہ کے سوا کچھ اور تھے؟ اور وہ کون تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دغا کرنے اور تبوک سے واپسی پر آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا، کیا وہ بھی آپ کے صحابہ میں سے نہیں تھے؟ (ملاحظہ کریں: مسند أحمد ۵: ۴۵۳، مغازي الواقدي ۳: ۱۰۴۲، دلائل النبوة للبيهقي ۵: ۲۵۶، وغیرہ)۔ پھر قرآن کریم میں منافقین کے مکر و فریب سے ڈرانے والی آیات کا یہ واضح تکرار کیا معنی رکھتا ہے جنہوں نے ظاہر میں ایمان کا اظہار کیا اور باطن میں کفر اور دشمنی چھپائی، یہاں تک کہ قرآن کریم میں منافقین اور منافقات کا لفظ (۳۲) مرتبہ آیا ہے۔ اور آخر میں میں عقلمندوں سے پوچھتا ہوں: عقل کیسے گوارا کر سکتی ہے کہ تمام صحابہ پر بلا استثناء اور بغیر کسی تحقیق کے عدالت اور نیکی کا لیبل لگا دیا جائے، صرف اس لیے کہ اس صحابی نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا یا آپ کی صحبت اختیار کی، گویا اس صحبت میں کوئی تقدیس یا عصمت ہے جو انہیں الزام اور حساب سے بچائے اور خدائی رضا حاصل کرنے کا جواز فراہم کرے، چاہے اس صحابی نے کوئی بھی فعل کیا ہو، زیادتی کی ہو اور مخالفت کی ہو، حالانکہ یہ فاسد تصور تمام مسلمانوں کے نزدیک معروف ترین اسلامی تصورات کے خلاف ہے؟! یہ واقعی عجیب بات ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی ازواج کو - جو آپ کے سب سے قریب اور تمام صحابہ سے زیادہ آپ کے ساتھ رابطہ رکھنے والی ہیں - عذاب میں مضاعف کرنے کی دھمکی دی ہے اگر وہ شریعت اسلامیہ کے خلاف کوئی کام کریں، اس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس قرب اور تماس کی شدت کو نظر انداز کیا، جب انہوں نے سورۃ الاحزاب (آیت ۳۰) میں فرمایا: ﴿ يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ مَنْ يَأْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ يُضَاعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا ﴾ تو جب معاملہ اس تصور کے مطابق ہے تو صحابہ میں سے جو مخالفت کرے اس پر بھی دوگنا اعتراض ہونا چاہیے، کیونکہ اس نے صحبت کے شرف اور عزت کو برا بھلا کیا ہے۔ ہاں، ہمارے پاس ہمارے موقف کی صحت پر ہزاروں دلائل ہیں، اور میں یہاں ان نام نہاد صحابہ کی معروف تعداد کا جائزہ نہیں لینا چاہتا جو واقعی اسلام اور اس کے اہل کے لیے نصاریٰ اور یہود سے زیادہ نقصان دہ اور کتے کی مانند تھے، کیونکہ یہ محدود مقام اس اہم بحث کے لیے مناسب نہیں، البتہ میں سمجھتا ہوں کہ تمام صحابہ کی عدالت کا قول - جس کی طرف سب سے پہلے اہل حدیث نے دعوت دی، پھر یہ ایک عقیدہ بن گیا جس کی بنیاد پر ان گروہوں کو اسلامی تشریع میں حصہ دیا گیا، بلکہ یہ کہ ان کے لیے سنن ہوں جیسے رسول اللہ ﷺ کی سنن، بلکہ ان کی آراء قیامت تک لوگوں پر حجت ہوں - یہ اہل بیت علیہم السلام سے منحرف گروہوں کی بدعات میں سے تھا، اور معاویہ بن ابی سفیان، بسر بن ارطاة، سمرہ بن جندب، عمرو بن العاص، مغیرہ بن شعبہ، معاویہ بن حدیج اور ان جیسے دوسرے لوگوں کی بدکاریوں کی حمایت کے لیے تھا جن کے بہت سے فاسد اعمال میں کوئی عذر نہیں، اور کوئی بھی ان کے لیے عذر پیش نہیں کر سکتا، سوائے انہیں عدالت سے منسوب کرنے کے راستے کے، اور اسی طرح ان کے لیے اجتہاد کا حق منسوب کرنا، چاہے وہ نص کے خلاف ہو، چنانچہ انہوں نے اس کا سہارا لیا اور اسے مضبوط پکڑ لیا، تو یہ گھٹیا اور ملی جلی آمیزش ایک سنت بن گئی جس پر بعد میں آنے والے گروہ چل پڑے، بغیر کسی توقف یا اس بات کی جانچ کے کہ یہ غلط اور مسترد منہج کس حد تک درست ہے۔
۱۲۔ ملاحظہ کریں: صحيح البخاري ۵: ۲۴، سنن ابن ماجة ۱: ۵۲|۱۱۴، صحيح مسلم ۴: ۲۴۰۴، سنن الترمذي ۵: ۶۳۸|۳۷۲۴ و ۶۴۰|۳۷۳۱، أسد الغابة ۵: ۸، الرياض النضرة ۳: ۱۱۷، تاريخ بغداد ۴: ۲۰۴، حلية الأولياء ۷: ۱۹۴، ترجمة الإمام علي عليه السلام من تاريخ دمشق ۱: ۱۲۴۔
۱۳۔ ملاحظہ کریں: صحيح البخاري ۵: ۸۶|۱۳۱، صحيح الترمذي ۵: ۶۳۵|۳۷۱۷، سنن ابن ماجة ۱: ۴۲/۱۱۴، تاريخ بغداد ۲: ۲۵۵، و ۸: ۴۱۷ و ۱۴: ۴۲۶، حلية الأولياء ۴: ۱۸۵، الرياض النضرة ۳: ۱۸۹۔
۱۴۔ ملاحظہ کریں: سنن الترمذي ۵: ۶۳۶|۳۷۲۱، أسد الغابة ۴: ۳۰، مستدرك الحاكم ۳: ۱۳۰، الرياض النضرة ۳: ۱۱۴، حلية الأولياء ۶: ۳۳۹، ترجمة الإمام علي عليه السلام من تاريخ دمشق ۲: ۱۰۵-۱۵۱، تذكرة الخواص: ۴۴۔
۱۵۔ ملاحظہ کریں: صحيح البخاري ۴: ۶۵ و ۷۳، سنن الترمذي ۵: ۶۳۸|۳۷۲۴، سنن ابن ماجة ۱: ۴۵|۱۲۱، مسند أحمد ۴: ۵۲، سنن البيهقي ۹: ۱۳۱، التاريخ الكبير للبخاري ۷: ۲۶۳، المصنف لعبد الرزاق ۵: ۲۸۷|۹۶۳۷۔
۱۶۔ ملاحظہ کریں: سنن الترمذي ۵: ۶۶۲|۳۷۸۶ و ۶۶۳|۳۷۸۸، مسند أحمد ۳: ۱۷ و ۵: ۱۸۱، مستدرك الحاكم ۳: ۱۰۹ و ۱۴۸، أسد الغابة ۲: ۲۱۔
۱۷۔ ملاحظہ کریں: تاريخ بغداد ۱۴: ۳۲۱، مستدرك الحاكم ۳: ۱۲۴، ترجمة الإمام علي عليه السلام من تاريخ دمشق ۳: ۱۱۷|۱۱۵۹۔
۱۸۔ صحيح البخاري ۵: ۱۷۷، اور مزید ملاحظہ کریں: صحيح مسلم كتاب الجهاد والسير ۵: ۱۵۲، الإمامة والسياسة ۱: ۱۱، مروج الذهب ۲: ۳۰۲، تاريخ الطبري ۳: ۲۰۸، الكامل في التاريخ ۲: ۳۲۷، الصواعق المحرقة: ۱۳۔
۱۹۔ ان میں سے ہیں: أبو ذر الغفاري، سلمان الفارسي، المقداد بن عمرو، عمار بن ياسر، فروة بن عمرو، خالد بن سعيد بن العاص، أبي بن كعب، البراء بن عازب، قيس بن سعد بن عبادة، خزيمة بن ثابت، اور دیگر۔ ملاحظہ کریں: مروج الذهب ۲: ۳۰۱، العقد الفريد ۴: ۲۵۹، تاريخ الطبري ۳: ۲۰۸، الكامل في التاريخ ۲: ۳۲۵، تاريخ اليعقوبي ۲: ۱۰۳، تاريخ أبي الفداء ۲: ۶۳۔
۲۰۔ عبداللہ بن عباس نے کہا: میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کے پاس ذی قار میں حاضر ہوا جبکہ آپ اپنا جوتا پیوند لگا رہے تھے، تو اللہ ان پر رحم فرمائے، انہوں نے مجھ سے فرمایا: اس جوتے کی کیا قیمت ہے؟ میں نے کہا: اس کی کوئی قیمت نہیں۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: «والله لهي أحب إلي من أمرتكم إلا أن أقيم حقاً، أو أدفع باطلاً» .... ملاحظہ کریں: شرح نهج البلاغة للشيخ محمد عبده ۱: ۷۶|۳۲۔
۲۱۔ اس کا صحیح لفظ (المختلّف) ہے کیونکہ یہ معاملہ پورا ابوبکر کے عہد میں تھا، اور اسی طرح بعد کے الفاظ میں بھی، غور کریں۔
۲۲۔ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے اس موقف کی حقیقت کو سمجھنا جو آپ نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد اسلامی ریاست کی صورت حال کے پیش نظر ظاہری طور پر تسلیم کر لیا، صرف اس حقیقت کے اجزاء پر گہری نظر کے ذریعے ممکن ہے جس کا سامنا اس نوجوان اور نازک ریاست کو اس کی زندگی اور مقدس وجود کے اس حساس اور نازک دور میں تھا۔ میں کہتا ہوں: یہ ثابت شدہ بات ہے جسے اس ماضی کے دور کے اکثر مؤرخین نے اسلامی تاریخ میں درج کیا ہے کہ ابوبکر، عمر اور صحابہ کا ایک گروہ نے زبردستی اور دھمکی کے ذریعے امام علی علیہ السلام کو ابتدا میں ابوبکر کی بیعت پر مجبور کرنے کی کوشش کی، اور آپ کے اس موقف سے دستبرداری کے لیے جو رسول اللہ ﷺ کی خلافت میں آپ کے شرعی حق پر مبنی تھا، یہاں تک کہ انہوں نے آپ کے گھر کو جلانے کی صریح دھمکی دی، حالانکہ اس میں رسول اللہ ﷺ کی پاکیزہ اولاد اور صحابہ کا ایک گروہ تھا جنہوں نے اہل بیت علیہم السلام کی غیر موجودگی اور رسول اللہ ﷺ کو غسل اور کفن دینے کے کام میں مشغول ہونے کے دوران بنی ساعدہ کی چھت پر جو معاملہ طے پایا تھا اسے مسترد کر دیا تھا، اس طرح جو آخری وداعیہ پیغام نبی رحمت ﷺ کے لیے ہونا چاہیے تھا، اس کی مناسبت سے کیا گیا … اور اس خطرناک کوشش کی حقیقت جس کا سہارا ان صحابہ نے لیا، بہت سی مختلف تاریخی مصادر و مراجع نے واضح طور پر اس کی طرف اشارہ کیا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد پہلے دنوں کے واقعات کو درج کرتی ہیں (ملاحظہ کریں: تاريخ الطبري، الإمامة والسياسة لابن قتيبة، أنساب الأشراف للبلاذري، تاريخ ابن شحنة، تاريخ أبي الفداء، شرح النهج لابن أبي الحديد المعتزلي، كتاب الملل والنحل للشهرستاني، مروج الذهب، العقد الفريد، كتاب أعلام النساء لابن طيفور، اور دیگر)۔ اور اس وقت مجھے شاعر حافظ ابراہیم کے اشعار کا ایک قطعہ یاد آتا ہے جو میں نے پڑھا تھا، جو واضح طور پر اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے، وہ کہتے ہیں:

وَقَوْلَةٍ لِعَلِيٍّ قَالَهَا عُمَرُ  أَكْرِمْ بِسَامِعِهَا أَعْظِمْ بِمُلْقِيهَا
حَرَقْتُ دَارَكَ لَا أُبْقِي عَلَيْكَ بِهَا  إِنْ لَمْ تُبَايِعْ، وَبِنْتُ الْمُصْطَفَى فِيهَا!!
مَا كَانَ غَيْرُ أَبِي حَفْصٍ بِقَاتِلِهَا  أَمَامَ فَارِسِ عَدْنَانٍ وَحَامِيهَا!!!

لیکن یہ خوفناک کوشش - جو اسلامی تاریخ میں ایک خطرناک مثال ہے، اور دیگر ناپسندیدہ کوششیں - اس وقت کی اسلامی حکومت کی طرف سے مطلوبہ نتیجہ نہ دیتی اگر امام علی علیہ السلام کے پاس گہری بصیرت اور اسلامی ریاست کی رفتار میں اس نامناسب فریق کے سامنے کھڑے ہونے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے متعدد نتائج کا باریک ادراک نہ ہوتا، اور اس کے علاوہ نوجوان ریاست کے گرد و نواح کے حالات کا جو سامنا تھا، اور آپ کے خطبات اور کلمات جو شکایت اور احتجاج سے بھرپور ہیں، اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ہاں، مدینہ منورہ اور اس کے گرد و نواح ایک حساس اور خطرناک حلقہ تھے کیونکہ وہ اسلامی ریاست کے مرکز اور دارالحکومت کے قریب تھے، جبکہ اس کی دیواروں کے درمیان اور اس کے قریب وہ لوگ رہتے تھے جو اس سے دغا کرنا اور اس پر حملہ کرنا چاہتے تھے، اور ان میں سے: پہلے: منافقین، جو ایک ایسا طبقہ تھا جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ان کا خطرہ بہت بڑا اور عظیم تھا کہ اس سے چشم پوشی کی جا سکے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ آیت ۱۰۱ میں فرمایا: ﴿ وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍ ﴾۔ دوسرے: یہودی، جو اسلام اور اس کے اہل کے سب سے شدید دشمن ہیں۔ تیسرے: وہ ممالک اور سلطنتیں جو اسلام کو اپنے لیے یقینی خطرہ سمجھتی تھیں، جیسے رومی، کسریٰ اور قیصر۔ چوتھے: منحرف اور فاسد مراکز جو ناکام کوشش کر رہے تھے کہ زمینی حقیقت میں قدم جما سکیں، ان میں نبوت کے دعویدار بھی شامل تھے جنہیں بےوقوفوں اور کم عقلوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد ملی جو ان کی لغویات اور فسادات میں ان کی حمایت کرتے تھے، جیسے: مسیلمہ کذاب، طلیحہ بن خویلد، سجاح بنت حارث۔ اور دیگر وجوہات، جن کا خطرہ امام علی علیہ السلام نے اسلامی ریاست کے لیے سمجھا، جس کی بنیاد میں رسول اللہ ﷺ کے بعد آپ کی جہاد اور تلوار کا سب سے بڑا فضل ہے۔ اور آپ کو میری طرف سے قارئین کرام! آپ علیہ السلام کے ان کلمات کا کچھ حصہ جو آپ کی زندگی کے حالات کی وضاحت کرتے ہیں اور جنہوں نے آپ کو اپنے شرعی حق اور حقیقی مقام کو نظر انداز کرنے پر مجبور کیا: آپ علیہ السلام نے اپنی مشہور خطبہ شقشقیہ میں فرمایا: «أما والله لقد تقمصها فلان [اور بعض مصادر میں: ابن أبي قحافة، اور اس میں کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ حدیث واضح ہے اور اشارہ یہاں تصریح سے بےنیاز ہے] وإنه ليعلم أن محلي منها محل القطب من الرحى، ينحدر عني السيل، ولا يرقى إليَّ الطير، فسدلت دونها ثوباً، وطويت عنها كشحاً، وطفقت أرتئي بين أن أصول بيد جذاء، أو أصبر على طخية عمياء، يهرم فيها الكبير، ويشيب فيها الصغير، ويكدح فيها مؤمن حتى يلقى به، فرأيت أن الصبر على هاتا أحجى. فصبرت وفي العين قذى، وفي الحلق شجى، أرى تراثي نهباً» ..... اور اپنے ایک اور خطبہ میں فرماتے ہیں: «.... فنظرت فإذا ليس لي معين إلا أهل بيتي، فظننت بهم على الموت، وأغضيت على القذى، وشربت على الشجى، وصبرت على أخذ الكظم، وعلى أمر من طعم العلقم»۔ اور اپنے خطبہ میں اہل مصر کی طرف فرماتے ہیں: «... فما راعني إلا انثيال الناس على فلان ليبايعونه، فأمسكت يدي حتى رأيت راجعة الناس قد رجعت عن الإسلام، يدعون إلى محق دين محمد صلى الله عليه وآله، فخشيت إن لم أنصر الإسلام وأهله أن أرى فيه ثلماً أو هدماً، تكون المصيبة به علي أعظم من فوت ولايتكم»۔ اور جنگ جمل کے موقع پر آپ کا فرمان: «فوالله ما زلت مدفوعاً عن حقي، مستأثراً علي منذ قبض الله تعالى نبيه صلى الله عليه وآله حتى يوم الناس هذا»۔ اور آپ علیہ السلام بعض صحابہ کے ساتھ اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں: «وقد قال قائل: إنك على هذا الأمر يا بن أبي طالب - لحريص! فقلت: بل أنتم والله أحرص وأبعد، وأنا أخص وأقرب، وإنما طلبت حقاً لي وأنتم تحولون بيني وبينه، وتضربون وجهي دونه. فلما قرعته بالحجة في الملأ الحاضرين هب كأنه بهت لا يدري ما يجيبني به»۔ اور آخر میں آپ کو میری طرف سے قارئین کرام! امیرالمؤمنین علیہ السلام کی دعا اور قریش کی طرف سے آپ پر جو گزری اس کی شکایت، اس میں غور اور تدبر کریں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَعْدِيكَ عَلَى قُرَيْشٍ، وَمَنْ أَعَانَهُمْ، فَإِنَّهُمْ قَطَعُوا رَحِمِي، وَصَغَّرُوا عَظِيمَ مَنْزِلَتِي، وَأَجْمَعُوا عَلَى مُنَازَعَتِي أَمْراً هُوَ لِي»۔
۲۳۔ ان میں سے ہیں: عمار بن ياسر، خزيمة بن ثابت ذو الشهادتين، أبو عمرة الأنصاري، ثابت بن عبيد الأنصاري، عبدالله بن بديل الخزاعي، أبو الهيثم مالك بن التيهان، هاشم المرقال، عبدالرحمن بن بديل الخزاعي، جندب بن زهير الأزدي، سعد بن الحارث الأنصاري۔
۲۴۔ مختلف تاریخی مصادر میں یہ روایت ہے: جب معاویہ بن ہند نے علی بن ابی طالب علیہ السلام کے خلاف خروج کا ارادہ کیا تو اس نے عمرو بن عاص کو مصر سے اپنے پاس آنے کا پیغام بھیجا، چنانچہ اس نے شام میں آ کر ان سے ملاقات کی، اور انہوں نے علی علیہ السلام کے خلاف خروج اور جنگ کرنے کے معاملے پر گفتگو کی، اور باتیں آگے بڑھیں یہاں تک کہ معاویہ نے اس سے کہا: لیکن ہم ان سے اس بات پر جنگ کریں گے جو ہمارے پاس ہے، اور ہم انہیں عثمان کے قتل کا پابند کریں گے۔ تو عمرو نے کہا: واہ! اسوأتاه، عثمان کا ذکر کرنے کا سب سے زیادہ حقدار نہ میں ہوں اور نہ تم!! معاویہ نے کہا: کیوں، تجھے خرابی ہو؟ اس نے کہا: رہا تم تو تم نے ان کی خذلان کی - اور تمہارے ساتھ اہل شام تھے - یہاں تک کہ انہوں نے یزید بن اسد البجلی سے فریاد کی، اور رہا میں تو میں نے انہیں عیاناً چھوڑ دیا اور فلسطین کی طرف بھاگ گیا!! معاویہ نے کہا: مجھے اس سے چھوڑ دو، اپنا ہاتھ بڑھاؤ اور میری بیعت کرو۔ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، میں تمہیں اپنا دین اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تمہاری دنیا سے کچھ نہ لوں!! تو معاویہ بن ہند نے کہا: تمہارے لیے مصر بطور خراج ہے۔ اور اس طرح دونوں فریق متفق ہو گئے جہاں معاویہ کو وہ ملا جس کا وہ ارادہ تھا، یعنی ابن عاص کے دین کو ایک معمولی قیمت اور تھوڑے سے مال کے بدلے خرید لیا، جسے اس نے اپنے پیچھے چھوڑ دیا تاکہ وہ آسمان کی عدالت کے سامنے اپنے گناہوں اور معاصی کے بوجھ تلے کھڑا ہو، یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ اس نے مرتے وقت اس بات کو یاد کیا - جیسا کہ تاریخ کی کتابیں بیان کرتی ہیں - تو اس نے کہا: کاش میں اس دن سے تیس سال پہلے مر جاتا، میں نے معاویہ کی دنیا سنوار دی اور اپنا دین برباد کر دیا، میں نے اپنی دنیا کو ترجیح دی اور اپنی آخرت چھوڑ دی، میرے رہنے کا راستہ میرے لیے اس وقت تک مبہم رہا جب تک میری موت نہ آ گئی۔ ملاحظہ کریں: وقعة صفين: ۳۴، تاريخ اليعقوبي ۲: ۱۸۴، شرح نهج البلاغة لابن أبي الحديد المعتزلي ۲|۶۱، سير أعلام النبلاء ۳: ۷۲، مختصر تاريخ دمشق ۱۹: ۲۴۴، العقد الفريد ۴: ۹۷ و ۵: ۹۲، عيون الأخبار ۱: ۴۳۸۔
۲۵۔ اور یہ اکیلے ایک عظیم وبال ہے جو معاویہ کو جہنم کے سب سے نچلے درجے میں پہنچانے کے لیے کافی ہے، جہاں اس نے ایک ایسے شخص کو امت کی گردنوں پر مسلط کیا جس میں ہر قسم کی رذیلت اور پستی کی صفات واضح طور پر جمع تھیں، بلکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے سب سے واضح دشمنوں میں سے تھا، اور اہل بیت نبوت علیہم السلام سے دشمنی رکھتا تھا، یہاں تک کہ اس نے اپنی مختصر حکومت کے دوران ایسے مصائب اور آفات کا ارتکاب کیا جن سے آسمان اور زمین لرز اٹھتی ہیں، ان میں سب سے بڑا واقعہ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کے بیٹے، آپ کی ریحان، جنت کے نوجوانوں کے سردار، امام حسین بن علی بن ابی طالب علیہما السلام کا قتل تھا، ان کے بھائیوں، اہل بیت اور ساتھیوں کے ساتھ، بلکہ ان کے اہل و عیال کو قید کرنا اور شہروں میں ان کا طواف کرانا جس سے دل پاش پاش اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں .... تو معاویہ نے اس امت کے ساتھ کیا کیا اور اس پر کیا ظلم ڈھایا .... اور یہ عظیم جرم اور ہولناک مصیبت کس سے منسوب ہے؟ پھر کیا معاویہ واقعه حرہ سے بچ سکے گا جس میں اس کے ملعون بیٹے نے رسول اللہ ﷺ کے شہر کو فاجعہ میں مبتلا کیا، اور اس میں اموال، خون اور عزتوں کو حلال کیا، اور دوسری باتیں جو دلوں میں نہیں سماتیں اور عقل انہیں تسلیم نہیں کرتی، بلکہ اس نے مسلمانوں کی گردنوں پر اپنی تلوار رکھ دی یہاں تک کہ اس دن مہاجرین، انصار اور دیگر مسلمانوں میں سے دس ہزار سے زیادہ افراد قتل ہوئے جیسا کہ بہت سے مراجع و مصادر ذکر کرتے ہیں، یہاں تک کہ کہا گیا کہ اس کے بعد مدینہ میں کوئی بدری باقی نہ رہا، خواتین اور بچوں کے قتل کی تو بات ہی نہیں، بلکہ یہ بھی روایت ہے کہ اس کے سپاہیوں اور غلاموں نے اس واقعہ میں مہاجرین اور انصار کی بیٹیوں میں سے ہزار کنواریوں کی عصمت دری کی، اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے ملعون امیر یزید کی بیعت کریں اس شرط پر کہ وہ ان کے غلام اور خول ہیں، چاہے وہ انہیں غلام بنا لے یا آزاد کر دے!! ہاں، یہ اور دیگر عظیم وبالیں جن کی کوئی گنتی اور شمار نہیں، جو صرف ایک کافر، بد سرشت، پلید طینت اور بدکار شخص سے صادر ہوتی ہیں۔ اور آخر میں میں کہتا ہوں: معاویہ نے اس امت کے ساتھ کیا کیا، اور اسے ان سنگین افعال کے تبعات سے کیسے نجات مل سکتی ہے جو اس کے اپنے افعال سے منسلک ہیں اور جو فساد اور انحراف میں ان سے کم نہیں ہیں۔
۲۶۔ ہاں اس نے اسے اس دعویٰ سے ملحق کیا کہ ابو سفیان نے سمیہ سے زنا کیا تھا - اور وہ صاحبِ رایت خواتین میں سے تھی - جبکہ وہ عبید کے بستر پر تھی، تو اس نے زیاد سے حمل کیا، اور اس پر ابو مریم کی گواہی تھی جو شراب فروش اور بدکار تھا، تو مبارک ہو اسلامی امت کو ایسے رہنماؤں پر جنہیں ابھی تک بعض لوگ احترام، تعظیم اور تقدیس دیتے ہیں، حالانکہ انہوں نے دین کو بدل دیا، اس کی حدود کو ضائع کیا، اس کی حرمتوں کو مباح کیا، اس کے اہل کا خون بہایا، اور کوئی منکر چیز نہیں چھوڑی مگر اسے کیا۔ ملاحظہ کریں: تاريخ الطبري ۵: ۲۱۴، الكامل في التاريخ ۳: ۴۴۱، مروج الذهب ۳: ۱۹۳، العقد الفريد ۵: ۲۶۷ و ۶: ۱۴۴، سير أعلام النبلاء ۳: ۴۹۵، الإصابة ۳: ۴۳۔
۲۷۔ شاید اللہ ان پر رحم فرمائیں، ان سے مراد ابوبکر اور عمر ہیں، لیکن میں ان کی تخصیص کی وجہ نہیں سمجھا، پس غور کریں۔
۲۸۔ نثر الدر ۱: ۳۰۵۔
۲۹۔ ملاحظہ کریں: ربيع الأبرار ۱: ۹۰، ۹۲، ۸۰۷، ۸۳۵ و ۲: ۶۹۳، ۷۲۰ و ۳: ۷۷، ۸۰ و ۴: ۲۳۹ و ۲۴۲۔
۳۰۔ مقاتل الطالبيين: ۷۳، شرح نهج البلاغة لابن أبي الحديد المعتزلي ۱۶: ۴۹، الاستيعاب بهامش الإصابة ۱: ۳۷۵، مروج الذهب ۳: ۱۸۲|۱۷۶۰۔
۳۱۔ شاید بعض لوگ معاویہ بن ہند کے اس قول پر اکتفا کریں جو اس نے مسجد کوفہ میں کہا تھا کہ تمام عہد اور مواثیق جو اس نے امام حسن علیہ السلام کے ساتھ کیے تھے اور جن کی وفا پر اس نے اپنے اوپر گواہ بنائے تھے، اس کے قدموں تلے ہیں اور وہ ان میں سے کسی کی وفا نہیں کرتا، لیکن اس صلح کے بعد معاویہ کی سیرت اور افعال کا استقراء اس نقض اور اس عہد سے دستبرداری کا بہترین گواہ ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا کہ اسے پورا کرے گا۔ ہاں، اس نے امام حسن علیہ السلام سے عہد کیا تھا کہ خلافت ان کی موت کے بعد ان کی ہوگی، اور اگر امام حسن علیہ السلام ان سے پہلے وفات پا جائیں تو خلافت معاویہ کی ہلاکت کے بعد امام حسین علیہ السلام کی ہوگی، لیکن اس (یعنی معاویہ) نے امام حسن علیہ السلام کی وفات کے بعد اپنے فاجر بیٹے یزید کے لیے بیعت حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، حالانکہ اس نے امام حسن علیہ السلام کی زندگی میں ہی اس امر کو پھیلانے کی تیاری کی تھی جیسا کہ مختلف مراجع ذکر کرتے ہیں۔ پھر معاویہ نے امام حسن علیہ السلام سے عہد کیا کہ وہ آپ کے شیعوں کا تعاقب نہیں کرے گا اور ان کے خون کو محفوظ رکھے گا، لیکن اس نے امام علیہ السلام کے کسی ساتھی یا شیعہ کو نہیں چھوڑا مگر اسے ستایا یا قتل کیا۔ بلکہ اس نے اس بری سنت کو ختم کرنے کے اپنے عہد کو بھی توڑا جو اس نے امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کو منبروں پر سب و شتم کرنے کی بدعت ڈالی تھی، لیکن وہ اور اس کے بعد والے اس منکر فعل پر قائم رہے، یہاں تک کہ عمر بن عبدالعزیز نے اس سے منع کیا۔ اور آخر میں اس نے عہد کیا کہ وہ قرآن اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق حکم کرے گا، لیکن وہ ... جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ مشرق اور مغرب میں بہت فرق ہے۔ جو چاہیں تاریخ کی کتابوں سے اس واقعہ کے بارے میں مطالعہ کریں اور اپنے دین اور عقل کے مطابق فیصلہ کریں۔
۳۲۔ ربيع الأبرار ۱: ۹۰۔
۳۳۔ مختلف فضائل کی کتابوں کا رجوع کریں، جنہوں نے حسنین علیہما السلام کے عظیم مرتبے پر دلالت کرنے والی بہت سی صحیح روایات کو تفصیل سے نقل کیا ہے۔
۳۴۔ ملاحظہ کریں: كتاب البيان في تفسير القرآن للسيد أبي القاسم الخوئي رحمه الله: ۵۰۰، جہاں انہوں نے اس موضوع پر ایک شافی بحث کی ہے، جسے واضح اور صریح دلائل سے مستند کیا ہے۔
۳۵۔ ربيع الأبرار ۱: ۴۹۴۔
۳۶۔ اموی دو بڑے گروہوں میں تقسیم ہیں: عنابسہ اور اعیاص۔ عنابسہ کا نسب عنبسہ سے جاتا ہے جو ابو سفیان بن حرب کے چچا ہیں، اور اسی سے ہر اس کی نسبت ہوئی، اس لیے انہیں سفیانی کہا گیا۔ اور اعیاص کا نسب ایک ایسے شخص سے جاتا ہے جسے عیص، عویص، عاص یا ابوالعاص کہا جاتا ہے، اور انہی میں سے حکم ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے مطرود ہیں، وہ اور ان کا بیٹا مروان بدنام زمانہ۔ پس سفیانی وہ تھے جنہوں نے پہلے اسلامی ریاست کی باگ ڈور معاویہ بن ابی سفیان کے عہد (۴۱ھ) میں سنبھالی، اور ان کی حکومت معاویہ ثانی کے دور کے آخر تک پھیلی، پھر مروان بن الحکم نے (۶۴ھ) میں اقتدار سنبھالا اور اس کے بعد مروانی حکومت قائم کی، جو سفیانیوں کا جانشین تھی، اور بعد والا پہلے کے مشابہ تھا۔
۳۷۔ تاریخی مصادر میں روایت ہے: جب عمرو بن سعید نے عبدالملک کی مخالفت کی اور انہیں ستّر ہجری میں دمشق میں شکست دی، تو دونوں کے درمیان کئی دنوں تک جنگ جاری رہی، پھر انہوں نے آپس میں صلح کر لی اور اس پر ایک معاہدہ لکھا، اور عبدالملک نے عمرو کو امان دی اور اس پر عہد کیے، لیکن عبدالملک نے جلد ہی اپنا عہد توڑ دیا اور اپنے وعدوں کو نظر انداز کر دیا، اور عمرو کے ساتھ دغا کی - اور دغا ان کی خصلتوں میں سے ایک معمولی خصلت ہے - جہاں اس نے دمشق میں داخل ہونے کے چار دن بعد اسے اپنے پاس بلایا اور اس کا پرتپاک استقبال کیا، چنانچہ عمرو نے اس پر اعتماد کیا اور اس سے مطمئن ہو گیا، لیکن عبدالملک نے جلد ہی اسے بھیانک طریقے سے قتل کر دیا، اس کے خلاف مکارانہ حیلوں کے بعد۔ ملاحظہ کریں: تاريخ الطبري ۶: ۱۴۰، الكامل في التاريخ ۴: ۲۹۷، مروج الذهب ۳: ۳۰۴، العقد الفريد ۱۵۵: ۵۔
۳۸۔ سیوطی نے تاريخ الخلفاء (صفحہ ۲۷۷) اور دیگر میں ذکر کیا ہے: کہ چھتیس ہجری میں متوکل - اللہ اس پر لعنت کرے - نے امام حسین علیہ السلام کی قبر کو مسمار کرنے اور اس کے اردگرد کی عمارتوں کو منہدم کرنے اور اسے کھیتوں میں تبدیل کرنے کا حکم دیا۔ اور لوگوں کو اس کی زیارت سے منع کیا، اور اسے ویران چھوڑ دیا۔ اور متوکل اپنی تعصب کے لیے مشہور تھا، چنانچہ مسلمانوں کو اس سے تکلیف ہوئی، اور اہل بغداد نے دیواروں اور مساجد پر اس کی مذمت لکھی، اور شعراء نے اس کی ہجو کی، چنانچہ اس سلسلے میں جو کہا گیا ان میں سے ... اور مذکورہ اشعار نقل کیے۔
۳۹۔ ملاحظہ کریں: رجال النجاشي: ۴۰|۸۰۔
۴۰۔ یہ قصیدہ اس مبدع شاعر (متوفی ۳۵۷ھ) کی شاہکاروں میں سے ہے، اور اس میں سے ہے:

الحَقُّ مُهْتَضَمٌ وَالدِّينُ مُخْتَرَمُ  وَفَيْءُ رَسُولِ اللَّهِ مُقْتَسَمُ
وَالنَّاسُ عِنْدَكَ لَا نَاسٌ فَيَحْفَظَهُمْ  سَوْمُ الرُّعَاةِ وَلَا شَاءٌ وَلَا نِعَمُ
إِنِّي أَبِيتُ قَلِيلَ النَّوْمِ أَرَّقَنِي  قَلْبٌ تَصَارَعَ فِيهِ الْهَمُّ وَالْهِمَمُ
يَا لِلرِّجَالِ أَمَا لِلَّهِ مُنْتَصِرٌ  مِنَ الطُّغَاةِ؟ أَمَا لِلَّهِ مُنْتَقِمُ؟
بَنُو عَلِيٍّ رَعَايَا فِي دِيَارِهِمُ  وَالْأَمْرَ تَمْلِكُهُ النِّسْوَانُ وَالْخَدَمُ
مُحَلَّئُونَ فَأَصْفَى شُرْبَهُمْ وَشَلُ  عِنْدَ الْوُرُودِ وَأَوْفَى وُدَّهُمْ لِمَمُ
أَتَفْخَرُونَ عَلَيْهِمْ لَا أَبَا لَكُمُ  حَتَّى كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ جَدُّكُمْ!
وَلَا تُوَازِنَ فِيمَا بَيْنَكُمْ شَرَفٌ  وَلَا تَسَاوَتْ لَكُمْ فِي مَوْطِنٍ قَدَمُ
بِئْسَ الْجَزَاءُ جَزَيْتُمْ فِي بَنِي حَسَنٍ  أَبَاهُمُ الْعَلَمُ الْهَادِي وَأُمَّهُمُ
يَا بَاعَةَ الْخَمْرِ كُفُّوا عَنْ مَفَاخِرِكُمْ  لِمَعْشَرٍ بَيْعُهُمْ يَوْمَ الْهِيَاجِ دَمُ
الرُّكْنُ وَالْبَيْتُ وَالْأَسْتَارُ مَنْزِلُهُمْ  وَزَمْزَمُ وَالصَّفَا وَالْحِجْرُ وَالْحَرَمُ

۴۱۔ اس کی ہماری ترجمہ ملاحظہ کریں جو کتاب کے آخر میں ملحقات میں ہے۔
۴۲۔ كتاب أصل الشيعة وأصولها للشيخ محمد حسين آل كاشف الغطاء۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک