حضرت فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا) کی زندگی اور فضائل
حضرت صدیقہ فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کی زندگی اور فضائل
حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کو خدا کے حضور ایسا مقام حاصل ہے کہ ایک طرح سے انہیں تخلیق کا محور کہا جا سکتا ہے۔ جب خداوند متعال، اہل بیت (علیہم السلام) پر درود بھیجنا چاہتا ہے یا جب جبرائیل اصحاب کسا کے بارے میں خدا سے سوال کرتے ہیں، تو حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) محور قرار پاتی ہیں۔
حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کا مقام
حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کو خدا کے حضور ایسا مقام حاصل ہے کہ ایک طرح سے انہیں تخلیق کا محور کہا جا سکتا ہے۔ جب خداوند متعال اہل بیت (علیہم السلام) پر درود بھیجنا چاہتا ہے یا جب جبرائیل اصحاب کسا کے بارے میں خدا سے سوال کرتے ہیں، تو حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) محور قرار پاتی ہیں۔
خدائے متعال جبرائیل کے جواب میں فرماتا ہے:
«هُم فَاطِمَةَ وَ أَبُوهَا وَ بَعلُهَا وَ بَنُوهَا»
یعنی یہ افراد جو کسا کے نیچے ہیں، وہ فاطمہ (سلام اللہ علیہا) اور ان کے والد، ان کے شوہر اور ان کی اولاد (علیہم السلام) ہیں۔
درحقیقت ایمان کی قبولیت حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) پر اعتقاد پر منحصر ہے۔
ان کی زیارت میں ہم پڑھتے ہیں:
أَنَا لَكِ مُصَدِّقٌ صَابِرٌ عَلَى مَا أَتَى بِهِ أَبُوكِ وَ وَصِيُّهُ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا وَ أَنَا أَسْأَلُكِ إِنْ كُنْتُ صَدَّقْتُكِ إِلَّا أَلْحَقْتِنِي بِتَصْدِيقِي لَهُمَا لِتُسَرَّ نَفْسِي.
میں تیری تصدیق کرتا ہوں اور جو کچھ تیرے والد (رسول خدا) اور ان کے وصی (امیرالمؤمنین) ـ کہ ان دونوں پر خدا کی درود ہو ـ لے کر آئے، اس پر صبر و استقامت اختیار کرتا ہوں۔
اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ چونکہ میں نے تیری تصدیق کی، تو مجھے میری اس تصدیق کی وجہ سے ان دونوں سے ملا دے تاکہ میرا نفس خوش ہو جائے۔
رسول خدا (ص) حضرت زہرا (س) کے بلند مقام کے بارے میں عظیم تعبیرات رکھتے ہیں؛ مثلاً فرماتے ہیں:
وَ أَمَّا ابْنَتِي فَاطِمَةُ فَإِنَّهَا سَيِّدَةُ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ.
اور اما میری بیٹی فاطمہ، تو وہ جہانوں کی تمام عورتوں کی سردار ہے، اولین سے آخرین تک۔
اور یہ وہ ہستی جن کے حق میں رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اَلَّتِي قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ فِي حَقِّهَا: فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي مَنْ آذَاهَا فَقَدْ آذَانِي يَرْضَى اَللَّهُ لِرِضَاهَا وَ يَغْضَبُ لِغَضَبِهَا وَ هِيَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ اَلْعَالَمِينَ.
«فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہیں؛ جس نے انہیں اذیت پہنچائی، اس نے مجھے اذیت پہنچائی۔ اللہ ان کی رضا سے راضی ہوتا ہے اور ان کے غضب سے غضب ناک ہوتا ہے، اور وہ تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں۔»
رسول خدا (سلام اللہ علیہ) کا اپنی پیاری بیٹی کے ساتھ احترام اور تعظیم بےسابقہ اور بےنظیر تھی۔ جب بھی حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) اپنے والد کے پاس آتیں، وہ ان کے سامنے کھڑے ہوتے، ان کے استقبال کے لیے جاتے، ان کا ہاتھ پکڑتے اور چومتے۔ کسی اور شخص کے بارے میں نہیں آیا کہ رسول خدا (سلام اللہ علیہ) نے اس کا ہاتھ چوما ہو۔
جب بھی پیغمبر (سلام اللہ علیہ) مدینہ سے باہر جانا چاہتے، آخری شخص جس سے الوداع کرتے وہ حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) ہوتیں اور جب بھی شہر واپس آتے، سب سے پہلے اپنی پیاری بیٹی سے ملنے جاتے۔
اس یگانہ خاتون کا خدا کے حضور اور پیغمبر اکرم (سلام اللہ علیہ) کے نزدیک مقام اتنا عظیم ہے کہ حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) کا امیرالمؤمنین (سلام اللہ علیہ) کے لیے ہمسر ہونا ایک بےمثال افتخار اور فضیلت سمجھا جاتا ہے۔
امر ولایت کا دفاع
حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کی بابرکت زندگی کا ایک دور رسول خدا (ص) کے بعد کا مختصر زمانہ ہے۔
یہ دور صرف تین ماہ پر محیط تھا، لیکن اس کا ہر لمحہ صدیقہ کبری (سلام اللہ علیہا) کے لیے غم اور سختی سے بھرا تھا؛ کیونکہ اس مدت میں ایک طرف والد کے فقدان کا جانگداز غم ان کے پاک وجود کو ستا رہا تھا، اور دوسری طرف خلافت کے الہی مقام پر قبضے کی غم انگیز خیانت ان کے رنج میں اضافہ کر رہی تھی۔ اس کیفیت میں حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) اپنے اوپر ایک اہم ذمہ داری دیکھتی ہیں، اور وہ ولایت کا دفاع ہے۔
وہ اس میدان میں قدم رکھتی ہیں اور اس راہ میں اپنی جان دے دیتی ہیں تاکہ ولایت کے دفاع کی پہلی شہیدہ شمار ہوں۔
رسول خدا (سلام اللہ علیہ) نے خدائے متعال کے حکم سے غدیر کے دن اور دیگر مواقع پر لوگوں پر حجت تمام کی اور امیرالمؤمنین (ع) کو اپنا وصی اور جانشین مقرر کیا؛ اس لیے امیرالمؤمنین (سلام اللہ علیہ) اس خلیفہ کو تسلیم نہیں کر سکتے تھے جو سقیفہ کی شوریٰ سے نکلا تھا۔
البتہ یہ بات نہ بھولیں کہ ابوبکر کی خلافت کو نہ ماننا صرف انہی کے ساتھ خاص نہیں تھا۔ رسول خدا (سلام اللہ علیہ) کے کئی اصحاب اور مدینہ کے کچھ لوگ جو سعد بن عبادہ کی پیروی کرتے تھے، انہوں نے بھی ابوبکر سے بیعت نہیں کی۔
قریش کے دو قبیلوں، یعنی بنی امیہ اور بنی زہرہ نے بھی کچھ وجوہات کی بنا پر ان کی خلافت کو قبول نہیں کیا؛ لہٰذا یہ مشہور بات کہ ابوبکر کی خلافت امت کے اجماع سے تھی، تاریخی حقیقت نہیں رکھتی۔
پیغمبر اکرم (سلام اللہ علیہ) کی حیات میں ایک دن وہ مقدس ہستی اصحاب کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھی اور پوچھا: «عورت کے لیے بہترین فضیلت کیا ہے؟»
ہر ایک نے کوئی نہ کوئی بات کہی۔
پیغمبر (سلام اللہ علیہ) نے فرمایا:
«یہ نہیں۔» حتیٰ کہ امیرالمؤمنین (ع) نے بھی کوئی بات پیش کی، لیکن پیغمبر (سلام اللہ علیہ) نے فرمایا: «یہ درست ہے، مگر میرا جواب یہ نہیں۔»
امیرالمؤمنین (سلام اللہ علیہ) نے جان لیا کہ اس سوال کا جواب فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) بہتر جانتی ہیں؛ اس لیے فوراً حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) کے پاس آئے اور جواب پوچھا۔
انہوں نے فرمایا: «عورت کے لیے بہترین فضیلت یہ ہے کہ وہ کسی غیر محرم مرد کو نہ دیکھے اور کوئی غیر محرم مرد بھی اسے نہ دیکھے۔»
امیرالمؤمنین (سلام اللہ علیہ) مسجد واپس گئے اور جواب رسول خدا کی خدمت میں پیش کیا۔
انہوں نے فرمایا: «بالکل درست ہے، لیکن تمہیں تو معلوم نہیں تھا؟!»
عرض کیا: «میں نے فاطمہ (س) سے پوچھا۔»
پیغمبر (ص) نے تین بار فرمایا:
«فِدَاهَا أَبُوهَا»
(اس کے والد اس پر قربان ہوں!)۔
لیکن یہی خاتون جو عورت کے لیے بہترین فضیلت غیر محرم سے دوری اور پرہیز میں دیکھتی ہیں، جب ملاحظہ کرتی ہیں کہ امیرالمؤمنین (سلام اللہ علیہ) بےیار و مددگار اور تنہا رہ گئے ہیں، تو ولایت کے دفاع کے لیے میدان میں آتی ہیں۔
حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) کی پاسداری کی کئی مثالیں تاریخ میں نقل ہوئی ہیں۔ مثلاً نقل ہے کہ خلافت کے غصب کے بعد امیرالمؤمنین حضرت زہرا اور حسن و حسین (علیہم السلام) کے ساتھ راتوں کو ان اصحاب کے دروازوں پر جاتے جن کا پیغمبر (سلام اللہ علیہ) کے ساتھ سابقہ تھا (یعنی وہ لوگ جو بدر و احد میں حاضر تھے) اور انہیں رسول خدا کی وصیتیں یاد دلاتے۔ حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) بھی ان پر حجت تمام کرتیں اور فرماتیں:
«تم نے علی کی مدد کیوں نہ کی؟
تم نے رسول خدا (ص) کی وصیتوں کو کیوں نظرانداز کیا؟»
وہ بہانے بناتے؛ مثلاً بعض نے امیرالمؤمنین (سلام اللہ علیہ) سے کہا:
«اگر تم نے پہلے اقدام کیا ہوتا تو ہم کسی کو بھی تم پر ترجیح نہ دیتے۔»
وہ فرماتے: «کیا تم توقع رکھتے تھے کہ میں، جو پیغمبر (سلام اللہ علیہ) کا وصی ہوں، پیغمبر خدا کے جسم کو زمین پر دفن نہ کیا ہوا چھوڑ دوں اور اس قدرت کی خاطر جو ان سے باقی رہی ہے، مدعیوں سے جھگڑا شروع کر دوں؟!
ایسی صورت میں خود تم مجھے کیا کہتے؟»
وہ امیرالمؤمنین اور فاطمہ زہرا (علیہما السلام) کی مضبوط دلیل کے سامنے کوئی جواب نہ رکھتے؛ اس لیے مدد کا وعدہ کیا۔
اہل سنت کے منابع کے مطابق انہوں نے قیام کے لیے وقت مقرر کیا اور طے کیا کہ مقررہ وقت پر سر منڈوا کر اور تلواریں کھینچ کر قیام کی جگہ پر حاضر ہوں گے۔
لیکن اہل سنت کے منابع کے مطابق مقررہ وقت پر سلمان، ابوذر اور مقداد(رضوان اللہ علیہم) کے سوا کوئی حاضر نہ ہوا، البتہ عمار نے تاخیر سے خود کو پہنچایا۔
شیعہ منابع میں بھی کہا گیا ہے کہ بارہ افراد امیرالمؤمنین (سلام اللہ علیہ) کی مدد کے لیے حاضر ہوئے۔
امام نے کچھ دیر انتظار کیا اور جب دیکھا کہ کوئی ان کی مدد کے لیے نہیں آتا،
تو فرمایا: «جب لوگ میرے حق کے دفاع میں اپنے سر نہیں منڈوا سکتے، تو وہ اپنی جان کیسے قربان کریں گے؟»
منققول از: استاد رجبی دوانی

