امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

حضرت زہرا (ع)کی طرزِ زندگی کی جھلکیاں

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

حضرت زہرا علیہاالسلام کی سیرت اور اسلامی طرزِ زندگی کی جھلکیاں
تهیه و تنظیم : اصغر اخوی - ترجمہ: یوسف حسین عاقلی
مرکز مشاوره جامعه الزهرا علیهاالسلام

حضرت زہرا علیہاالسلام نے اپنے اسلامی طرزِ عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شریکِ حیات ہونے کے لائق ہیں، اسی وجہ سے پیامبر نے آپ کو دنیا کی سب سے بزرگ اور شایستہ خاتون قرار دیا۔

حضرت زہرا (س) فردی، اجتماعی، خاندانی، دنیوی و اخروی، عبادی و اعتقادی، روحانی و معنوی پہلوؤں اور والد، شوہر، اولاد اور لوگوں کے ساتھ تعلقات کے لحاظ سے تمام مردوں اور عورتوں کے لئے نمونہ و اسوہ ہیں۔ ذیل میں آپ کی اس سیرت اور سراسر افتخار طرزِ زندگی کے چند نمونے بیان کیے جاتے ہیں:

الف) ولایت مداری

کیوں اولیائے خدا تنہا رہ گئے اور کیا کرنا چاہیے؟

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے امام شناسی اور اپنے امام زمانہ حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کی حفاظت کے ذریعے تاریخ کو ایک حقیقت عطا کی تاکہ تمام شیعہ آپ کو نمونہ بنا کر حریمِ ولایت کی حفاظت کا راستہ سیکھ سکیں۔

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا جو عقلِ مجسم ہیں، 
کیوں آپ کی سب سے بڑی فکر ولایت مداری رہی؟
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا راستہ اس حقیقت کا اظہار کرتا ہے کہ عالم کا سب سے بلند موضوع اپنے وقت کے امام کی مدد اور ساتھ دینا ہے۔

حقِ حاکمیت خداوند ہی کا ہے اور حکومت کا منبع پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام ہیں جو خداوند کی طرف سے ہیں، اور لوگوں کا کردار قبولیت اور شرائط فراہم کرنا ہے۔
 ان اہم ترین وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ ہر زمانے کا ولی (جو آج امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی صورت میں پردہ غیبت میں ہیں) موجود رہا اور معصومین تنہا رہ گئے، یہ ہے کہ ہم خالص شیعہ نہیں بنے اور ہم فاطمی شیعہ نہیں بنے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: 
"أَحْسِنُوا مُجَاوَرَةَ اَلنِّعَمِ لاَ تُمِلُّوهَا وَ لاَ تُنَفِّرُوهَا فَإِنَّهَا قَلَّ مَا نَفَرَتْ عَنْ قَوْمٍ فَعَادَتْ إِلَيْهِمْ" ۔
خدا کی نعمتوں کی قدر کرو اور انہیں اپنے سے دور نہ کرو، کیونکہ کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی نعمت کسی قوم سے زائل ہو اور پھر ان کی طرف لوٹ آئے۔

اب تاریخ کا جائزہ لیں: لوگوں کی معصومین علیہم السلام کی نعمت کے بارے میں ناشکری کی وجہ سے خداوند متعال نے اپنے آخری فرستادہ کو پردہ غیبت میں رکھا تاکہ انسان یاری اور زمینہ سازی کے ذریعے ثابت کریں کہ وہ امام معصوم کو قبول کرتے ہیں، تاکہ خداوند ان کے ظہور کا فرمان صادر فرمائے۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں:
 لَنْ يَقْدِرَ أَحَدٌ أَنْ يُحْصِنَ اَلنِّعَمَ بِمِثْلِ شُكْرِهَا۔
کوئی بھی نعمتوں کی حفاظت اور نگہداشت نہیں کر سکتا مگر ان کے شکر کے ذریعے۔

شکرگزار نعمت ہونے کی شرح اب یہ ہے کہ ولایت کی نعمت کا شکر امام زمانہ عجل اللہ کی مدد اور ساتھ دینا ہے۔ اگر لوگ حضرت کی مدد کے مقام پر آئیں اور ظہور کے لئے زمینہ فراہم کریں، تو خداوند متعال اس نعمت کے شکر کے بدلے اپنے آخری فرستادہ کے ظہور کا حکم دے گا۔

شاید آپ سوچیں کہ ظہور میں مدد کے لئے کون سا راستہ طے کرنا چاہیے؟
مختصر جواب یہ ہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ کی زندگی کے راستے کو نمونہ بنانا چاہیے، امام زمانہ کی غربت اور تنہائی کا غم لوگوں کو سمجھانا چاہیے اور حضرت کی مدد کے مقام پر کھڑا ہونا چاہیے۔
 معاشرے میں اس ثقافت کی تخلیق سے لوگ پوری طرح اپنے امام زمانہ کی غربت کو محسوس کریں گے اور ظہور کے لئے زمینہ فراہم کریں گے۔

ب) شوہر داری کے آداب
حضرت علی (ع) اور حضرت زہرا (س) کے تعلقات گفتار و کردار میں اور پوری مشترکہ زندگی میں بے حد صمیمیت اور محبت بھرے تھے۔ اس کی سادہ مثال حضرت علی (ع) اور ان کی اہلیہ کے درمیان حضرت فاطمہ (س) کی زندگی کے آخری لمحات میں ایک محبت بھرا مکالمہ ہے، جو ایک عورت کو پہچاننے کا بہترین طریقہ ہے کیونکہ شوہر دوسروں، حتیٰ کہ والدین سے بھی، اپنی بیوی کو بہتر جانتا ہے اور اس کے افکار و کردار اور اچھی یا بری عادتوں کے رازوں سے زیادہ واقف ہے۔ 
چنانچہ حضرت علی علیہ السلام اپنی شریک حیات جنابِ زہرا علیہاالسلام کو مکمل طور پر جانتے ہیں اور دوسروں سے بہتر ان کی تعریف و توصیف کر سکتے ہیں۔
 امیرالمؤمنین نے زہرا کے بارے میں بہت کچھ فرمایا ہے، لیکن یہاں دو کلمات پر اکتفا کیا جاتا ہے:
پہلا کلام شادی کی پہلی صبح پیغمبر اکرم کے سوال کے جواب میں فرمایا۔
 رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شادی کی پہلی صبح حجلہ میں تشریف لائے اور داماد سے پوچھا:
یعنی رسول خدا نے حضرت علی سے پوچھا: اپنی شریک ِحیات کو کیسا پایا؟ 
فَسَأَلَ عَلِيّاً كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ؟ 
 تو علی علیہ السلام نے فرمایا:
 قَالَ: نِعْمَ اَلْعَوْنُ عَلَى طَاعَةِ اَللَّهِ، [بحار ج ۴۳ ص ۱۱۷]۔ 
تو عرض کیا: خدا کی اطاعت میں بہترین مددگار ہے۔

دوسرا کلام زندگی کے آخری لمحات میں حضرت زہرا علیہاالسلام نے فرمایا:
 امیرالمؤمنین اور زہرا آخری لمحات میں تنہا ہوئے۔ اور 
قال: اوصینى بما احببت۔ قالت: یا ابن عم ما عهدتنى کاذبه و لا خائنه و لا خلفتک منذ عاشرتنى۔ فقال علیه السلام: معاذ اللَّه انت اعلم باللَّه وابرّ واتقى و اکرم و اشدّ خوفاً من اللَّه من ان اوبّخک بمخالفتى، قد عزّ علىّ مفارقتک [بحار ج ۴۳ ص ۹۱]۔

حضرت زہرا نے آخری لمحات کی وداع میں امیرالمؤمنین (ع) سے کہا:
اے چچا زاد بھائی! میں نے پوری زندگی میں کبھی آپ سے جھوٹ نہیں بولا، خیانت نہیں کی اور کبھی آپ کی مخالفت نہیں کی۔
 امیرالمؤمنین نے جواب میں فرمایا: ہاں اے دخترِ پیغمبر! معاذ اللہ کہ آپ نے کوئی خلاف کیا ہو۔ آپ کی خدا شناسی، نیکوکاری، تقویٰ اور خداترسی کا مرتبہ اس سے بلند ہے کہ آپ نے میرے ساتھ مخالفت کی ہو۔ آپ کا جدائی میرے لئے بہت سخت ہے۔

امیرالمؤمنین نے اپنی ازدواجی زندگی کے آغاز میں حضرت زہرا علیہاالسلام کو بہترین ایسی بیوی کے طور پر متعارف کروایا جس کی مدد سے خدا کی اطاعت کی جا سکتی ہے۔ جملہ
 (نعم العون على طاعه اللَّه) 
ایک مختصر لیکن بہت پرمعنی جملہ ہے۔ اس میں ازدواج کا مقصد بیان کیا کہ بیوی سے مدد لینا خدا کی اطاعت کے لئے، اور اپنی بیوی زہرا کو اس اہم امر میں کامیابی کے لئے بہترین مصداق قرار دیا۔

آخری لمحات کی وداع میں فاطمہ علیہاالسلام نے بھی آپ کے مقامِ عرفان، نیکوکاری، تقویٰ اور خوفِ خدا کی تعریف کی اور اپنی سابقہ رائے کی تصدیق کی۔ معلوم ہوتا ہے کہ زہرا نے پوری ازدواجی زندگی میں نہ صرف اپنے شوہر کو خدا کی اطاعت اور ولایت کی بھاری ذمہ داری ادا کرنے سے نہیں روکا، بلکہ ہر پہلو میں ان کی تائید اور مددگار رہیں۔

امیرالمؤمنین (ع) کی فوق العادت شخصیت اور ان کے اخلاقی، سیاسی و سماجی مقام کو دیکھتے ہوئے، ان کی ممتاز بیوی زہرا علیہاالسلام کی شخصیت بھی واضح ہو جاتی ہے۔ علی بن ابی طالب علیہ السلام ایک عام فرد نہیں تھے، بلکہ اسلام کی دوسری ممتاز شخصیت تھے اور حضرت زہرا علیہاالسلام کے سوا کسی دوسری عورت کو ان کی شریکِ حیات ہونے کا لائق نہیں تھا، صرف وہی تھیں جو ان کے بارے میں کہہ سکتی تھیں:
 نعم العون على طاعه اللَّه۔
 یہاں فاطمہ کا ممتاز مقام واضح ہو جاتا ہے اور انہیں حضرت علی کی واحد لائق بیوی کے طور پر متعارف کروایا جا سکتا ہے۔ وہی تھیں جو بیتِ علی میں ان کی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں اور خدا کی اطاعت اور اس ذمہ داری کی انجام دہی میں، جو ان پر ڈالی گئی تھی، ان کی تائید و تشویق کر سکیں۔

حضرت زہرا علیہاالسلام نے اپنے اسلامی طرزِ عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ وہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شریکِ حیات ہونے کے لائق ہیں، اسی وجہ سے پیغمبر نے آپ کو دنیا کی سب سے بزرگ اور شایستہ خاتون قرار دیا۔
 فاطمہ اسلام کی نمونہ خاتون ہیں اور اسلامی خواتین کو ان سے زندگی کا سبق لینا چاہیے۔ اس میں رجالِ دین اور علمائے کرام کے خاندانوں کی ذمہ داری زیادہ ہے۔ وہ خاتون جو ایک عالمِ دین کی شریکِ حیات بنتی ہے، اسے اپنے شوہر کے مقام کی ذمہ داری کا خیال رکھنا چاہیے۔ اسے جاننا چاہیے کہ اس کا گھر پیغمبر اور علی کے گھر کی مانند ہے۔ یہ معنویت، علم، عدل، مواسات، مساوات، ایثار، تقویٰ، فضیلت، خدا کی طرف توجہ، اسلام و مسلمین کی خدمت، اور ایک لفظ میں تمام اسلامی و انسانی فضائل و مکارم کی دعوت کا گھر ہے۔

ج) فاطمی  اورفرزند پروری کی جھلکیاں
حضرت زہرا (س) کے فرزند پروری کے طریقے:
۱- اولاد سے محبت اور مہربانی
ماہرینِ نفسیات کے مطابق بچے حیاتیاتی و فعلیاتی ضروریات کے ساتھ ساتھ، خصوصاً ابتدائی عمر میں، جذباتی تعلقات اور دوسروں کی قبولیت کے محتاج ہوتے ہیں، جن کی تکمیل سکون و توازنِ نفسی اور بعض نفسیاتی بالیدگیوں کے حصول کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ نفسیاتی سکون، ذہنی امن، عزتِ نفس، خود اعتمادی، والدین پر اعتماد، دوسروں سے محبت میں نمونہ گیری اور انحرافات سے بچاؤ اس کی چند مثالیں ہیں۔

محبت کا سبق حضرت زہرا (س) کے گھر میں مکمل طور پر پیش کیا جاتا تھا اور وہ خود رسول خدا (ص) کی محبت و عطوفت کے سرچشمے سے سیراب ہو کر ان کا دل شوہر اور اولاد کی محبت کا مرکز تھا، اس لحاظ سے بھی وہ اپنی مادری ذمہ داری بہترین طریقے سے ادا کرتی تھیں۔

۲- بچوں کو بوسہ دینا اور نرمی کرنا
ہر بچے کی اہم ترین ضروریات میں سے ایک خاندان، رشتہ داروں اور والدین کی پاکیزہ عواطف اور محبت و مہربانی سے بہرہ مند ہونا ہے۔ بچے کی جذباتی شخصیت کی پرورش کے طریقوں میں سے ایک محبت کا اظہار اور بوسہ دینا ہے۔ 
پیغمبر اکرم (ص) کے فاطمہ (س) کے رخسار، ہاتھ اور بازو پر بار بار بوسے آپ کی اپنی اولاد سے محبت کے اظہار کی علامت تھے۔ آپ محبت کرنے اور بچوں پر توجہ دینے کو بہت اہمیت دیتے تھے، 
چنانچہ: ایک روز رسول خدا (ص) امام حسن (ع) کو بوسہ دے رہے تھے اور پیار کر رہے تھے،
 اقرع بن حابس نے عرض کیا: میرے دس بچے ہیں، لیکن میں نے ابھی تک ان میں سے کسی کو بوسہ نہیں دیا۔
 پیغمبر اکرم (ص) غضبناک ہوئے اور فرمایا: اگر خدا نے محبت تیرے دل سے لے لی ہے تو میں کیا کروں؟! 
جو شخص بچوں پر رحم نہ کرے اور بزرگوں کی عزت نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔

حضرت زہرا (س) بھی جو ایسے ہی مکتب کی تربیت یافتہ تھیں، اپنے بچوں کو بار بار بوسہ دے کر ان کی جذباتی شخصیت کی پرورش کرتی تھیں۔

۳- بچوں کے ساتھ کھیلنا
تربیت کے مؤثر طریقوں میں سے ایک کھیل ہے، کھیل وہ طریقہ ہے جو بچے کی روح پر مثبت اور گوناگون اثرات ڈالتا ہے، اس کی خلاقیت کو کھلاتا ہے اور اس کے بچگانہ جذبات کو محبت سے سیراب کرتا ہے۔ ماں کا بچوں کے ساتھ بچگانہ کھیل بچے کی جسمانی و فکری نشوونما کو تیز کرتا ہے اور اسے ماں کے پاکیزہ جذبات منتقل کرتا ہے۔
 نشاط، شادابی، خلاقیت، ابتکار و نوآوری اور خود اعتمادی اس میں پیدا کرتا ہے اور بچے کی پوشیدہ صلاحیتوں کے ظہور کے لئے زمینہ فراہم کرتا ہے۔
 حضرت فاطمہ (س) بچپن ہی سے اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتی تھیں اور اس نکتے کا بھی خیال رکھتی تھیں کہ کھیل میں ماں کے الفاظ اور حرکات بچے کے لئے نمونہ بنتی ہیں، لہٰذا مناسب کلمات و جملات استعمال کرنا چاہیے۔
 اس کے علاوہ کھیل اور مذاق کے قالب میں بچے کی شخصیت کو مضبوط بنانا چاہیے اور اسے نیکیوں اور اکتسابی ارزشوں کی طرف تشویق و رہنمائی کرنی چاہیے۔
 نقل ہوا ہے کہ حضرت اپنے فرزند امام حسن مجتبی (ع) کے ساتھ کھیلتی تھیں اور انہیں اوپر اچھالتی تھیں اور فرماتی تھیں:

"میرے بیٹے حسن، اپنے والد کی مانند ہو، ظلم کی رسی کو حق سے الگ کرو، اس خدا کی عبادت کرو جو متعدد نعمتوں کا مالک ہے اور کبھی ظالموں اور تجاوز کرنے والوں سے دوستی نہ کرو"۔

فاطمی عفاف و حجاب:

حتی نیفتاد از سرش یک بار چادر
گل را محافظ بود از هر خار چادر

دارد برای هر زن آزاد اندیش
با یاد زهرا حرمت بسیار چادر

پیچید دور دُر بی مانند مادر
مثل صدف در کوچه و بازار چادر

کوه وقار است این که می بینید مردم
این نکته را می گفت در انظار: چادر

آیینه را تا عکس نابینا نبیند شد
پرده دارش لحظه ی دیدار چادر

نامردها وقتی که دورش را گرفتند
او را سپر شد لحظه ی پیکار چادر

در کوچه، خاکی شد ولیکن گفت آری
از گرگها با حیدر کرار چادر

راز کبودی گل سرخش نشد فاش
صدیقه را شد حافظ اسرار چادر

اما دریغا دور از چشمان حیدر
شد شعله ور بین در و دیوار چادر

این بیت را با اشک باید خواند مردم!
زد بال بال آن روز با مسمار چادر

فواره زد خون از گل نیلوفری وای!
شد ناگهان مثل شقایق زار چادر

د: حضرت زہرا (س) سے توسل کی ضرورت

يافاطِمَةَ‌الزَّهْراءُ‌يابِنْتَ‌مُحَمَّد‌
يا‌قُرَّةَ‌عَيْنِ‌الرَّسُولِ‌ياسَيِّدَتَنا‌ومولاتنا
اِنّا‌تَوَجَّهْنا‌وَاسْتَشْفَعْنا‌وَتَوَسَّلْنا‌بِكِ‌اِلَى‌اللهِ
وَقَدَّمْناكِ‌بَيْنَ‌يَدَيْ‌حاجاتِنا
يا‌وَجيهَةً‌عِنْدَاللهِ‌اِشْفَعي‌لَنا‌عِنْدَاللهِ

و: حضرت زہرا (س) کے سوگ میں

"مادرجان" ہو گئے علی کے بچے دوبارہ یتیم
جی ہاں،
آ گیا غم اس خاندان کی طرف…
ہم دونوں جہانوں میں
فاطمہ جان
دل تجھ سے باندھا ہے
تیرے محبت کرنے والے ہیں
نظر فرما اپنی عنایت سے
قیامت کے فردا پر

------

تهیه و تنظیم : اصغر اخوی 
مرکز مشاوره جامعه الزهرا علیهاالسلام

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک