امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

بچوں کو منظم کیسے کیا جائے؟

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

اکثر والدین رات ہونے پر یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے سوائے بچوں سے لڑائی جھگڑے کے اور کوئی کام نہیں کیا۔ شاید ہی کوئی ایسا گھر ہوگا جہاں بچوں اور والدین کے درمیان روزانہ کسی نہ کسی بات پر گھر کا ماحول تلخ نہ ہوتا ہو، خصوصاً ان گھروں میں جہاں بچے ذرا بڑے ہوں، وہاں اس قسم کی باتیں معمول بن جاتی ہیں۔ بظاہر یہ بہت معمولی نوعیت کی باتیں ہوتی ہیں لیکن اس سے بعض اوقات بچوں اور والدین کے درمیان غیر مرئی سا کھنچاو پیدا ہو جاتا ہے۔
عام طور پر کھانے اور سونے کے اوقات روزانہ مسئلہ کھڑا کر دیتے ہیں۔ والدین کی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ بچے بروقت کھانا کھائیں اور وقت پر سو جائیں لیکن اس معاملے میں بچوں کی جانب سے مسلسل غفلت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ بچے ان معاملات میں خود کو منظم نہیں کر پاتے۔ خصوصاً 6 سے 9 سال کے اکثر بچے اپنے معمولات کا اوقات کار طے کرنے میں ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتے، اسکول کے کام پر توجہ نہیں دیتے، دوستوں میں زیادہ وقت گزارتے ہیں اور گھر دیر سے آتے ہیں۔ والدین کے لئے یہ تمام چیزیں پریشانی کا باعث بنتی ہیں اور ان تمام معاملات کے ساتھ خوش اسلوبی سے نمٹنا خاصا مشکل کام نظر آتا ہے۔ بچوں کے گھر سے باہر کھیلنے کے دوران بھی والدین کو ان کی خیریت سے متعلق تشویش لاحق رہتی ہے۔
بچوں کی والدین سے لڑائی کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ گھر کی چاردیواری تک ہی محدود ہوتی ہے۔ تاہم اس قسم کے معاملات سے نمٹنے کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔ یعنی والدین بچوں کی ان حرکات پر مختلف ردِعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ کچھ صرف پریشان ہونے پر اکتفا کرتے ہیں اور بعض پر بے بسی کی کیفیت طاری ہوتی ہے اور کچھ والدین تشدد پر اتر آتے ہیں اور عموماً بچوں سے الجھنے کا آغاز ناشتے کی میز سے ہی ہوجاتا ہے۔
صبح کا وقت بچوں اور بڑوں دونوں کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ کچھ بچے ’’رات کے لوگ‘‘ ثابت ہوتے ہیں۔ وہ رات کو دیر سے سوتے ہیں اور لازمی طور پر صبح کو دیر سے بیدار ہونا پسند کرتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ صورتحال والدین کے لئے پریشانی کا باعث ہوتی ہے۔ وہ انہیں وقت پر اسکول بھیجنے کے خواہاں ہوتے ہیں تاہم والدین کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ بچوں کے لئے 8 سے 11 گھنٹے کی نیند ضروری ہے۔ وہ انہیں جگاتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ کیا بچہ اپنی نیند پوری کرچکا ہے؟ اس کے علاوہ بچہ کو جلد سونے کے لئے تیار کریں اور اسے اس قسم کے مشاغل سے دور رکھیں جس میں اس کے رات دیر تک جاگنے کا احتمال ہو۔
دراصل بچہ سونے کا پہلے عادی ہوتا ہے اس کے بعد اسے اسکول بھیجا جاتا ہے۔ چنانچہ شروع شروع میں بچے کو اس ضمن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسے اسکول کی نئی ذمہ داریاں بوجھ لگتی ہیں اور اسکول جانے کا عمل تھکا دینے کی حد تک تکلیف دہ محسوس ہوتا ہے۔ یہاں والدین کو چاہیے کہ وہ اسے اعتماد دیں، اسے بتائیں کہ اسکول جانا اور تعلیم کا حصول اس کے لئے کتنا ضروری ہے۔ اسے بتائیں کہ ہم نہیں چاہتے تمہیں خود سے دور کریں، تمہیں جلدی اٹھائیں لیکن ہمیں تمہاری بہتری کے لئے ایسا کرنا پڑتا ہے۔
عام طور پر ایسا بھی ہوتا ہے کہ باپ رات کو دیر سے گھر آتے ہیں اور بچے ان سے کھیلنا پسند کرتے ہیں، خصوصاً ایسے بچے جن کا جھکاو باپ کی طرف زیادہ ہو۔ لہٰذا لازمی طور پر بچے صبح دیر سے اٹھیں گے۔ بچے کو اسکول میں داخل کرانے سے دو تین ماہ قبل اگر وہ رات کو دیر سے سونے کا عادی ہے تو اس کی عادت کو بدلنے کی کوشش کریں۔ اس طرح وہ آنے والے وقت کے لئے خود کو تیار کرے گا۔
ملازمت پیشہ خواتین کے لئے بھی صبح بچوں کو وقت پر تیار کر کے اسکول بھیجنا اور خود بھی وقت پر دفتر جانا خاصا مشکل واقع ہوتا ہے۔ 4 اور 5 سال کی عمر کے بچے وقت کی اہمیت سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ وہ والدین کی جانب سے ’’جلدی کرو‘‘ کا شور مچانے کے باوجود جلدی کرنے پر تیار نہیں ہوتے بلکہ دانستہ چھوٹے چھوٹے بہانے بناتے ہیں۔ جیسے میں ہرے رنگ کی نہیں کالی قمیض پہنوں گی یا میں اپنا نیا والا لنچ باکس لے کر جاوں گی۔ میری پینسل ختم ہوچکی ہے ابھی لاکر دیں وغیرہ وغیرہ۔
اس قسم کے معاملات سے نمٹنے کے لئے بہتر ہے کہ آپ ان کی تیاری کا پروگرام دو مراحل میں تقسیم کرلیں۔ ان سے پوچھیں کہ کل آپ کو کس چیز کی ضرورت پڑسکتی ہے اور یہ کہ آپ کل کونسا لباس پہننا پسند کریں گی۔ اگر آپ کا پروگرام کسی پارٹی میں جانے کا ہے تو ایک روز پہلے لباس کا تعین آپ کا وقت بچا دے گا اور اسکول جانے والے بچے لازماً یونیفارم ہی پہنیں گے۔ ہوسکے تو انہیں شام کو ہی نہلا دیں۔ اس طرح صبح اسکول جاتے وقت آپ کے چند قیمتی منٹ بچ سکتے ہیں۔
صبح کا وقت ایسا نہیں ہے کہ آپ بچوں کو منظم کرنے کا درس دیں اور نہ آپ اس دوران اصرار کریں۔ آپ انہیں اسکول چھوڑتے وقت خاموش رہیں تو زیادہ بہتر ہے۔ صبح کے وقت چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپ کا شور مچانا نہ صرف آپ کے لئے بلکہ بچوں کے لئے بھی مفید ثابت نہیں ہوگا۔ اس طرح سارا دن آپ کا بدمزگی کی نذر ہوسکتا ہے اور آپ ممکن ہے پورا دن چڑچڑے پن کا شکار رہیں۔ لہٰذا بہت بہتر ہے کہ صبح کے وقت آپ کم سے کم گفتگو کریں۔ یاد رکھیں صبح کا پریشان کن آغاز شام کا پریشان کن اختتام بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
اکثر بچے اسکول جانے سے قبل بار بار ماں کا منہ چومتے ہیں۔ بعض اپنے تمام کھلونوں سے باری باری پیار کرتے ہیں خصوصاً بچیاں اس معاملے میں زیادہ جذباتیت کا اظہار کرتی ہیں؛ بھالو وغیرہ سے باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے بچوں کو دیکھا گیا ہے۔ اس دوران بعض مائیں پریشانی کا اظہار کرتی ہیں اور اکثر اوقات ڈانٹ بھی دیتی ہیں۔ یہ طریقہ مناسب نہیں۔ ایسی صورت میں بچے کو اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں بتایا جائے کہ تمہارے کھلونوں کو کوئی نہیں چھیڑے گا۔ جب تم اسکول سے واپس آو گے تو یہ تمہیں ایسے ہی ملیں گے کوئی چیز یہاں سے غائب نہیں ہوگی۔
خوش قسمتی سے جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے جاتے ہیں اپنی عادات کو بھی بدلتے جاتے ہیں۔ 5 سے 6 سالہ بچوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ انہیں الفاظ کی ادائیگی میں مہارت حاصل کرنے میں مدد دی جائے تاکہ وہ نئے الفاظ سیکھ کر اور ان کی ادائیگی کر کے لطف اندوز ہوں۔ اس دوران وہ ادھوری ہی سہی لیکن بعض معاملات پر بحث کرنا شروع کردیں گے۔ انہیں اور آپ کو الفاظ سے کھیلنے میں مزا آئے گا۔
اکثر گھروں میں کھانے کا وقت میدانِ جنگ کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ اگر تین چار بچے ہوں تو وہاں اس قسم کی صورتحال کا والدین کو اکثر سامنا رہتا ہے۔ کھانے کی میز پر والدین کو تحمل و برداشت اختیار کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ خصوصاً ایسے وقت جب آپ اتنی محنت سے کھانا تیار کریں اور کوئی بچہ کھانے سے انکار کردے اور اس چیز کا مطالبہ کرے جو فوری طور پر بنانا آپ کے لئے ممکن نہیں اور آپ کی کوئی دھمکی بھی کارگر ثابت نہ ہو تو آپ کے لئے خود پر قابو رکھنا کافی مشکل ہوجاتاہے۔
دراصل کھانا وہ واحد عمل ہے جس میں کمسن بچہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اس پر مکمل اختیار رکھتا ہے۔ لہٰذا کھانے سے انکار کر کے وہ اپنے اس خودمختارانہ احساس کو تقویت دیتا ہے اور کسی حد تک اس سے لطف اندوز بھی ہوتا ہے۔ اس میں وہ ماں کو ہدایت دیتا ہے کہ مجھے فلاں چیز چاہیے۔ وہ ماں کی اس کمزوری سے واقف ہوتا ہے کہ کھانے کے معاملے میںوہ اس کی خواہش کا احترام کرنے پر مجبور ہے جب کہ بڑی عمر کے بچے بھی اس معاملے میں چھوٹے بچوں سے زیادہ مختلف نہیں ہوتے۔ وہ بھی ہر کام اپنی مرضی سے کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں اپنے ہاتھ سے کام کر کے زیادہ خوشی محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کھانا خود اپنی پلیٹ میں ڈالنا پسند کریں گے۔ اسی طرح پانی کی بوتل کو خود کھول کر گلاس میں انڈیلنے میں انہیں مزا آتا ہے اور اس قسم کی ضدیں اکثر کھانے کی میز کا حلیہ بگاڑ دیتی ہیں جو یقینا ماں کے لئے تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔
بچوں کی ان چھوٹی چھوٹی ضدوں پر آپ بھی جھنجھلاہٹ کا مظاہرہ نہ کریں۔ بہتر ہوگا کہ آپ ان کے مطالبات پر ان کا ساتھ دیں۔ مثال کے طور پر اگر بچہ کہتا ہے کہ میں خود بوتل کھولوں گا تو آپ اس کو سکھائیں کہ بوتل کیسے کھولی جاتی ہے۔ اسی طرح لنچ باکس کو کھولنے کے معاملے میں ان کی رہنمائی کریں۔ آپ کوئی بھی چیز خود پہلے ہلکی سی کھول دیں، یعنی ڈھکن کو ڈھیلا کردیں اور پھر وہ چیز بچوں کے ہاتھ میں پکڑا دیں۔ اس سے بچے کی ضد بھی پوری ہو جائے گی اور کسی قسم کے نقصان کا احتمال بھی نہیں رہے گا۔
اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض والدین دودھ کے معاملے میں بچوں پر سختی کرتے ہیں۔ انہیں دودھ زبردستی پلایا جاتا ہے۔ اگر کوئی بچہ دودھ پینے سے انکار کردے تو ناشتے میں ایک کپ دہی اسے کافی غذائیت فراہم کردے گا یا ایک کپ پھلوں کا جوس بھی دودھ کا بہتر نعم البدل ثابت ہوگا۔ ناشتے کے معاملے میں بھی بچوں پر زبردستی نہ کریں تو بہتر ہے۔ آپ کی کوشش ہونی چاہیے کہ ناشتہ ہلکا پھلکا مگر صحت بخش ہو۔ کسی بھی نئی غذا سے متعارف کراتے وقت نرمی کا مظاہرہ کریں۔ اگر آپ انہیںمجبور کریں گے تو بچے چڑ جائیں گے اور اس طرح اچھی چیز پہلے خود کھائیں پھر اس کے ذائقے کی تعریف کریں۔ اس سے بچوں کو کھانے کی ترغیب ملے گی۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ زبردستی ٹھونسی گئی غذا بجائے فائدے کے بچوں کے لئے نقصان دہ بھی ثابت ہو جاتی ہے۔ بچوں کے سامنے پوری غذا رکھنے سے بہتر ہے کہ ان کی پلیٹ میں غذا کا تھوڑا سا حصہ رکھیں۔ اگر وہ اس کو پسند کریں تو مقدار بڑھاتے جائیں۔ اس سے غذا کے ضیاع کا احتمال جاتا رہے گا۔
جب بچے اسکول سے واپس آئیں اور کھانے کی میز پر بیٹھ جائیں تو آپ انہیں کھانے کے ادب و آداب سکھانے سے گریز کریں۔ اس وقت وہ کسی قسم کے لیکچر سننے کے موڈ میں نہیں ہوں گے اور نہ آپ کی باتیں ان پر اثر کریں گی۔ بچے اس وقت تھکے ہوئے، چڑچڑے اور بھوکے ہوتے ہیں۔ انہیں سمجھانے کے لئے چھٹی کے دن کا انتخاب کریں، اس دن بچے پرسکون ہوں گے اور آپ کی بات زیادہ توجہ سے سنیں گے۔

بچوں کی خوراک سے متعلق چند باتوں کو ہمیشہ ذہن میں رکھیں:
٭ جب آپ کا بچہ مزید کھانا کھانے سے انکار کردے تو اسے زبردستی کھانے پر مجبور نہ کریں۔ یہاں تک کہ اگر بچہ جسامت میں کمزور ہے تب بھی اسے زیادہ کھانے پر مجبور نہ کریں۔ آپ اس کی خوراک کو باقاعدہ بنائیں یعنی آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کے بچے کی اصلی خوراک کیا ہے۔
٭ بچوں کو دی جانے والی خوراک بہر صورت متوازن ہونی چاہیے اس میں ہر قسم کی غذائیت کا خیال رکھا جانا ضروری ہے۔
٭ دودھ اور دہی کا استعمال ضرور کرائیں۔
٭ نئی خوراک سے بچوں کو متعارف کراتے رہیں۔ ایک ہی قسم کی غذا سے بچہ اکتاہٹ کا شکار ہوجائے گا۔
٭ خوراک کا تعین کرتے وقت بچوں سے بھی مشورہ کریں اور بہتر ہوگا کہ پورے ہفتے کا چارٹ تیار کریں۔
٭ بچوں کو ناشتے کے بغیر کبھی اسکول نہ بھیجیں۔ اگر کوئی بچہ ناشتے سے غفلت کا مظاہرہ کرتا ہے تو اس عادت کی مناسب طریقے سے حوصلہ شکنی کریں۔
٭ پاپ کورن ، بسکٹ، ٹافیاں، چیونگم وغیرہ سے بچوں کو دن کا آغاز نہ کرنے دیں۔ ہوسکے تو حتی الامکان ان چیزوں سے بچوں کو دور رکھیں۔ کیونکہ ان چیزوں کو کھانے سے بچوں کو بھوک کم لگتی ہے اس طرح وہ وقت پر کھانا نہیں کھائیں گے۔
٭ سارا دن کچھ نہ کچھ کھاتے رہنے کی عادت بچوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے اس سے وہ موٹاپے کا شکار بھی ہوسکتے ہیں ۔ لہٰذا بچوں میں اس عادت کو پختہ نہ ہونے دیں۔
٭ غذا میں سلاد اور پھلوں کو ضرور شامل رکھیں اس سے ان کی ہر وقت کھاتے رہنے کی عادت میں بھی کمی آئے گی۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک