امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

علوم قرآن

قر آن کی شناخت قرآن کی روشنی میں

قر آن کی شناخت قرآن کی روشنی میں

 قرآن کریم کے متعلق سب سے پہلا سوال جو انسان کے ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا قران کی شناخت اور پہچان ممکن ہے یا نہیں ؟ بے شک قرآن کریم کی آیوہن میں غور فکر  اس وقت کر سکتا ہے کہ جب  ہمیں اس مقد س کتاب کی معرفت اور شناخت حاصل ہو ؛چونکہ جب کسی چیز کے فائدے کے متعلق یقین حاصل نہ ہو اس وقت تک اسکے پیچھے نہیں جاتا  لہذا ہمیں جب تک قرآن کریم کي صحیح پہچان نہ ہو اسکے آیتوں میں غور فکر نہیں کرسکتا ؛ اب قرآن کی معرفت کے لیے سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا ہو گا کہ قرآن ہے کیا؟اب اس سوال ك جواب هم نكات مين يون بيان كر سكت.هين:

مزید

تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 51 تا 55)

تفسیر " وَاِذْ وَ عَدْنَا مُوْسٰی اَرْبَعِیْنَ  لَیْلَةً ثُمَ اتَخَذْتُمْ الْعِجْلَ مِن بَعْدِہ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ (51) اورجب ھم نے موسی کیلیے چالیس راتوں کی میعاد مقرر کی اورپھر تم نےان کے بعد گوسالہ تیارکرلیااوریہ تمہارا بےمحل قدم تھا

مزید

تفسیر و تاویل

تفسیر و تاویل عربی زبان میں سفورکے معنی بے پردگی کے ہیں یعنی کسی پوشیدہ چیزکو منظرعام پرلے آنا جس کی بناپر  بے پردہ خواتین کوسافرات کہاجاتاہے جن کے بارے میں روایات میں وراد ہوا ہے کہ آخر زمانے میں جو بدترین زمانہ ہوگا ایسی عورتیں برآمدہوں گی جوسافرات اور زینت کرنے والی ہوں گی، لباس پہن کر بھی برہنہ ہوں گی ،دیں سے خارج اورفتنوں میں داخل ہونے والی ہوںگی اورآخرمیں جہنم میں ہمیشہ رہنے والی ہوںگی ۔

مزید

محکم ومتشابہ

محکم ومتشابہ تفسیروتاویل کی بحث کی تکمیل کے لئے یہ ضروری ہے کہ محکم اورمتشابہ کے معانی کی وضاحت بھی کردی جائے اس لئے کہ قرآن مجیدنے سارے فتنہ کی جڑتاویل ہی کوقراردیاہے اوراسی خطرہ کی طرف ہرمردمسلمان کومتوجہ کیاہے ۔ واضح رہے کہ قرآن مجید میں ان دونوںالفاظ کودوطرح سے استعمال کیاگیاہے ۔

مزید

* زوال کے اسباب اور راہ نجات *

* زوال کے اسباب اور راہ نجات * گرامی القدر پیغمبرِخدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے وصیت کرتے ھوئے فرمایا : "قریب ھے میں بلایا جاؤں اور مجھے جانا پڑے میں تم میں دو گرانقدرچیزیں چھوڑے جا رھاھوں اک خدائےبزرگ و برترکی کتاب اور دوسری میری عترت" کتابِ خدا تو ایک رسی ھےجو آسمان سےزمین تک دراز ھے اور میری عترت میرے اہلبیت ھیں. خدائے لطیف و خبیر نے مجھے خبر دی ھے کہ یہ دونوں جدا نہ ھوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر پہنچیں گے. پس دیکھو! میرے بعد تمہارا سلوک ان کے ساتھ کیسا رھتا ھے؟ اگر ان سے متمسک رھوگے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے"

مزید

اطاعتِ قرآن

اطاعتِ قرآن حضرت جبیر بن مطعم (رض) بدر کے اسیرانِ جنگ کے بارے میں گفتگو کےلیے مدینہ طیبہ حاضر ھوئے مغرب کی نماز پڑھی جارھی تھی.رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم امامت فرمارھے تھے اور سورہ طور کی تلاوت فرمارھے تھے.حضرت جبیر(رض) بتاتے ھیں کہ جب میں نے یہ آیتیں سنیں : "وَالطُوْرٍوَکِتٰبٍ مَسْطُوْرٍ فِی رَق مَنْشُورٍ" قسم ھے کوہِ طور کی اور کتاب کی جو لکھی گئی ھے کھلے ورق پر" (الطور#1/2)

مزید

اصول ابلاغ قرآن

اصول ابلاغ قرآن مومن بالقرآن اور عامل بالقرآن ھونے کے بعد جو اھم ترین ذمہ داری عائد ھوتی ھے وہ یہ ھے کہ نورِقرآن کو عام کیا جائے تاکہ اطراف و اکنافِ عالم سے شرک و الحاد، کفر و طغیان ، فسق و عصیاں کا اندھیرا چھٹ جائے اور زمین کے سینہ پر چلنے والا ھر فرد اللہ کی طرف رجوع کرنے والا، تقوٰی اختیار کرنے والا اور نماز قائم کرنے والا بن جائے اور مطلقًا شرک و رجس سے دوری اختیار کرنے والا ھو جائے .

مزید

مسئلہ تحریف قرآن

مسئلہ تحریف قرآن ہ کہنا کہ "قرآن میں تحریف ہوئی ہے " بذات خود ایسی شرمناک بات ہے ، جسے کوئی مسلمان جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت پر ایمان رکھتا ہو خواہ شیعہ ہو یا سنی  برداشت نہیں کرسکتا ۔

مزید

تحریف عملی و معنوی قرآن کریم ، ایک جائزہ

تحریف عملی و معنوی قرآن کریم ، ایک جائزہ يہ ايک تاريخي حقيقت ہے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے دنيائے عرب ميں ايک عالم گير شخصيت رونما ہوئي، جس کا نام محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھا اور جس نے اس بات کا دعوي کيا کہ ميں اللہ کا بھيجا ہوا نبي ہوں

مزید

کیا شیعہ قرآن مجید میں تحریف کے قائل ہیں؟

کیا شیعہ قرآن مجید میں تحریف کے قائل ہیں؟ شیعوں کے مشہور علماء کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن مجید میں کسی بھی قسم کی تحریف نہیں ہوئی ہے اور وہ قرآن جو آج ہمارے ہاتھوں میں ہے بعینہ وہی آسمانی کتاب ہے

مزید

فھم قرآن کی روش سے آشنائی

فھم قرآن کی روش سے آشنائی قرآن مجید نے بعض آیتوں میں اپنے کو مبین کے عنوان سے معرفی کی ھے ۔ " تِلْكَ آياتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ " ۔ (قصص/ ۲) یہ بیان کر نے والی کتاب کی آیتیں ھیں ،

مزید

عدم تحریف پر عقلی اور نقلی دلیلیں

عدم تحریف پر عقلی اور نقلی دلیلیں ہمارے عقیدہ کے مطابق بہت سے عقلی اور نقلی دلائل موجود ہیں جو قرآن مجید کی عدم تحریف پر دلالت کرتے ہیں کیونکہ ایک تو خود قرآن مجید فرماتا ہے : ہم نے قرآن مجید کو نازل کیا اور اس کی حفاظت بھی ہمارے ذمہ ہے ایک اور مقام پریوں ارشاد ہوتا ہے:''یہ کتاب شکست ناپذیر ہے ۔اس میں باطل اصلا سرایت نہیں کر سکتا ہے نہ سامنے سے ا ور نہ پیچھے کی طرف سے کیونکہ یہ حکیم و حمید خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے ''

مزید

قرآنی لفظِ "سمآء"کے مفاہیم

قرآنی لفظِ قرآنِ مجید میں لفظ ’سمآء‘ مروّجہ سات آسمانوں کے علاوہ اِن معانی کے لئے بھی اِستعمال ہوا ہے: 1۔ بادل 2 ۔بادلوں کی فضا 3 ۔بارش 4۔ کرۂ ہوائی- 5 ۔گھر کی چھت6۔ سماوِی کائنات

مزید

زبان قرآن کی شناخت

زبان قرآن کی شناخت قرآن میں قول لغت میں ”قول“ وہ بات اور گفتار ہے جو ظاھراً تلفظ ہو یعنی زبان پر جاری ہونے والے کچھ الفاظ جیسے قَالَ، تکلّم، نَطَقَ۔ ”لسان العرب“ میں ہے : القول:الکلام علیٰ الترتیب، وهوعند المحققین کلُّ لفظٍ قال به اللسان تاما کان او ناقصا قول ترتیب (تالیف)شدہ کلام ہے اور محققین کے نزدیک زبان سے جاری ہونے والا ہر وہ لفظ ہے جو چاہے مکمل(مفید)ہو یا نامکمل (غیر مفید)

مزید

قرآنی معلومات

قرآنی معلومات پوراقرآن تیس پاروں پر مشتمل ہے۔ • قرآن میں کل” ۱۱۴“ سورے ہیں۔ • قرآن میں ”۶۲۳۶“آیتیں ہیں۔

مزید

تلاوت قرآن کے آداب اور اس کا ثواب

تلاوت قرآن کے آداب اور اس کا ثواب جب فضیلتِ قرآن کی بات آئے تو بہتر ہے کہ انسان توقف اختیار کرے، اپنے آپ کو قرآن کے مقابلے میں حقیر تصور کرے اور اپنی عاجز ی اورناتوانی کا اعتراف کرے، اس لیے کہ بعض اوقات کسی کی مدح میں کچھ کہنے یا لکھنے کی بجائے اپنی عاجزی اور ناتوانی کا اعتراف کر لینا بہتر ہوتا ہے جو انسان عظمت قرآن کے بارے میں لب کشائی کرنا چاہے بھلا وہ کیا کہہ سکتا ہے ؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان (جو ایک ممکن اور محدود چیز ہے) لامتناہی ذات کے کلام کی حقیقت کا ادراک کر سکے اور اپنے مختصر اورمحدود ذہن میں اسے جگہ دے سکے۔

مزید

وحی کا ظھور

وحی کا ظھور وحی کے بارے میں گفتگو اس لحاظ سے اھمیت رکھتی ھے کہ یہ کلام الٰھی کی شناخت کا ذریعہ ھے بلکہ شاید ابحاثِ قرآنی میں سب سے مھم ترین بحث وحی کے بارے میں ھی ھو یعنی وحی کی پہچان اور آسمان سے زمین کے درمیان ارتباط کی پہچان ان سوالات کے جوابات مط الب قرآنی کو سمجھنے میں خاصی مدد دیتے ھیں۔

مزید

نزول وحی

نزول وحی قرآن مجموعہ ھے ان آیات اور سوروں کا جو ہجرت سے پھلے اور ہجرت کے بعد مختلف مناسبتوں کے تحت پیغمبر اسلام (ص) پر نازل ھوئے،قرآن کا تدریجی نزول آیہ آیہ اور سورہ سورہ کی صورت میں تھا جس کا سلسلہ پیغمبر اکرم (ص) کی آخری عمر تک جاری رھا،حیات پیغمبر(ص)میں بعض اوقات پیشین گوئیاں کرنے یامشکلات کو دور کرنے یاسوالات کے جوابات دینے کے لئے یابعض آیات نازل ھوتیں

مزید

کاتبان وحی

کاتبان وحی پیغمبر اکرم (ص) نے کیونکہ ظاھر میں کسی سے لکھنا پڑھنا نھیں سیکھا تھا اور لوگوں نے بھی آپ کو لکھتے پڑھتے نھیں دیکھا تھا لہٰذا لوگ آپ کو ”اْمّی“کہہ کر خطاب کرتے تھے لہٰذا قرآن نے بھی آپ کے لئے اسی لقب کو استعمال کیا اور ارشاد ھوا ( [1] ) ”یعنی تم لوگ ایمان لے آوٴ اللہ پر اور اسکے رسول اْمّی پر“۔

مزید

اسباب نزول

اسباب نزول جیسا کہ آپ لوگوں کے علم میں ھے کہ قرآن پیغمبر اکرم (ص)کی بعثت کی پوری زندگی میں مختلف مناسبتوں سے مختلف مقامات پر تدریجی طور پر نازل ھوا کھیں کسی عظیم حادثہ کی خبر دی گئی تو کھیں پیغمبر(ص) کے لوگوں کی طرف سے پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات دیئے گئے

مزید

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک