امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

تفسیر قرآن

سورہ تغابن کی مختصر تفسیر

سورہ تغابن کی مختصر تفسیر

مومنین کرام! ماہ مبارک رمضان کی مناسبت سےامام حسین علیہ السلام فاؤنڈیشن، شعبہ قم المقدسہ کی جانب سے انٹرنیٹ پر قم المقدسہ سےبراہ راست درس تفسیر قرآن کااہتمام کیاگیاہے،اورہماراموضوع،سورہ تغابن کی تفسیرہے۔ آ پ جانتے ہیں کہ ماہ مبارک رمضان ایک فرصت ہوتی ہے،اللہ کےکتاب قرآن کوپڑہنے،سننے اورسمجھنے اور اس پرعمل کرنے کی۔ ماہ مبارک رمضان ہےہی قرآن کامہینہ، عبادات کامہینہ،راز ونیازکامہینہ، پروردگارسےلولگانے، پروردگارسے مناجات کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اس کے احکام پر عمل کرنے کا مہینہ ۔ ویسے تو قرآن مجید پورا سال پڑہنے کی تاکید کی گئی ہے، روزانہ کم از کم پچاس آیات کی تلاوت کرنے کی تاکید کی گئی ہے، فرمایا گیا ہے جو چاہتا ہے کہ غافلین میں شمار نہ ہو اسے چاہیے کہ روزانہ پچاس آیات کی تلاوت کرے۔ مخلوق کو چاہیے کہ روزانہ اپنے دل کو، اپنی روح کو، اپنے قلب کو منور کریں خالق کائنات کے کلام کی تلاوت سے۔ اپنے رب کے کلام کو پڑھ، سمجھ، اور اس پر عمل کرکے اپنی دنیا اور آخرت کو آباد کریں ۔

مزید

اصحاب اعراف

اصحاب اعراف قرآن نے جن اہم ترین اور ضروری مباحث کو بیان کیا ہے ان  میں سے ایک بحث قیامت کے احوال  اور منازل قیامت ہے کہ جس کے بہت سارے اثرات محِّقق کی رفتار اور کردار پر پڑتے ہیں اور جو اس تحقیق سے استفادہ کرتے ہیں اور پڑھتے ہیں ان پر بھی اس کے مثبت اثرات مترتب ہونگے پس اسی بناء پر ہم یہاں قیامت کی منازل میں سے ایک جس کو قرآن نے صاف لفظوں میں بیان کیا ہے ’’ اعراف‘‘  کو مورد تحقیق قرار دے رہے ہیں

مزید

سورہ اخلاص کی تفسیر

سورہ اخلاص کی تفسیر دیباچہ قرآن کریم چونکہ ایک لا محدود، ازلی اور ابدی ذات کا کلام ہے  اس لئے وسیع اور لا متناہی علوم اور معارف پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے: ﴿قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا﴾  (1)

مزید

تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 76 تا 80)

تفسیر تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 76 تا 80)   "وَ اِذَا لَقُواالَذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْآ اٰمَنَا وَ اِذَاخَلَابَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ قَالُوْآ اَتُحَدِثُوْنَھُمْ بِمَا فَتَحَ اللہُ عَلَیْکُمْ لِیُحَآجُوْکُمْ بِه عِنْدَ رَبِکُمْ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (76). اور جب وہ اھل ایمان سے ملتےھیں تو کہتے ھیں ھم مومن ھیں اورجب آپس میں تخلیہ ھوتا ھے تو کہتے ھیں کہ جو تمہیں معلومات اللہ نے دیئے ھیں وہ تم انہیں کیوں بتادیتے ھوکہ جس سےوہ خودتمہارےخلاف پیشِ پروردگارحجت قائم کریں.آخر تم عقل سےکام کیوں نہیں لیتےھو؟"

مزید

تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 71 تا 75)

تفسیر تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 71 تا 75) "قَالَ اِنَهُ یَقُوْلُ اِنَها بَقَرَة لَا ذَلُوْلّ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ مُسْلَمَةّلَاشِیَةَفِیْهاقَالُوْاالْاٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِ فَذَبَحُوْهاوَمَاکَادُوْایَفْعَلُوْنَ (71). کہاوہ فرماتاھےکہ وہ ایک گائےھےجو نہ محنت کرنے والی ھے کہ زمین کو جوتتی ھو اور نہ وہ کھیتی کو پانی دیتی ھے. وہ بے عیب ھے ایسی کہ اُس میں کوئی داغ دھبہ نہیں ھے اُنہوں نےکہا اب آپنے ٹھیک ٹھیک پتا دیا.اب جاکر اُنہوں نےاُسےذبح کیااور معلوم تو ایساھوتاتھا کہ وہ یہ کریں گے نہیں"

مزید

تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 66 تا 70)

تفسیر تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 66 تا 70) "فَجَعَلْنَھَانَکَالاًلِمَا بَیْنَ یَدَیْھَاوَمَا خَلْفَھَاوَمَوْعِظَةً لِلْمُتَقِیْنَ تو ھم نےاُسےعبرت بنادیا اُس زمانہ اوراُس کےبعد کیلئےاور نصیحت بنادیا فکرِ نجات رکھنے والوں کیلئے"

مزید

تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 61 تا 65)

تفسیر " وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نَصْبِرَ عَلٰی  طَعَامٍ وَاحِدٍفَادْعُ لَنَا رَبَكَ یُخْرِجْ لَنَا  مِمَا تُنْبِتُ الْاَرْض ُ مِنْ م بَقْلِها وَ قِثَآئِهاوَفُوْمِهاوَعَدَسِهابَصَلِها^قَالَ  اَتَسْتَبْدِلُونَ الَذِیْ هوَ اَدْنٰی بِالَذِیْ  هوَ خَیْرّ^اِهبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَ لَکُمْ مَا  سَاَلْتُمْ ^ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهمُ الذِلَةّ وَ  الْمَسْکَنةُوَبَآءُوَبِغَضَبٍ مِنَ الله^ذَلِكَ  بِاَنَهمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ الله وَ  یَقْتُلُوْنَ بِغَیْرِالْحَقِ^ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ (61) اوراس وقت جب تم نےکہااےموسٰی ھم ھرگزایک کھانےپرصبرنہیں کریں گے لہذا اپنے پروردگار سے ھمارے لئے دعاکیجئے کہ وہ ھمارے لئے وہ چیزیں نکالے جو زمین سے اگتی ھیں جیسے ساگ ککڑی  گیہوں مسور اورپیاز. موسٰی نے کہا ارے  ایسی پست چیزیں تم بدل کرلینا چاھتے  ھو اس کے بجئےجو بہتر ھے.اچھاتو پھر کسی شہر میں جا اترو وھاں تمہیں جو مانگتےھو سب مل جائیگا اور اُن پر ذلت  اور محتاجی عائد کردی گئی اور وہ اللہ  کےغضب میں گرفتار ھوگئے.یہ اسلئے کہ  وہ اللہ کی نشانیوں کابرابرانکارکرتےتھے  اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرڈالتے تھے یہ اسلئےکہ انہوں نےنافرمانی کی اور وہ  برابر ظلم وتعدی سےکام لیتے تھے

مزید

تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 56 تا 60)

تفسیر " ثُمَ بَعَثْنٰکُمْ مِنْ بَعْدِ مَوْتِکُمْ  لَعَلَکُمْ تَشْکُرُوْنَ (56) پھرتمہارےمرنےکےبعدتمہیں ھم نے دوبارہ جِلادیا کہ شاید تم شکرگزارثابت ھو " ؛؛؛

مزید

تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 47 تا 50)

تفسیر 47). "یٰبَنِیْ اِسْرآءِیْلَ اذْکُرُوْانِعْمَتِیَ  الَتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَ اَنِیْ  فَضَلْتُکمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ¢ اے بنی اسرائیل! میری نعمت  یادکروجس وقت میں نےتمہیں نوازا اور یہ کہ میں نے تمہیں تمام خلائق سےزیادہ عطا کیا"

مزید

تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 41 تا 46)

 تفسیر "وَاٰمِنُوْا بِمَآاَنْزَلْتُ مُصَدِقًالِمَا  مَعَکُمْ وَلاَتَکُوْنُوْآ اَوَلَ کَافِرٍم بِه وَلاَتَشْتَرُوْابِاٰیٰتِیْ ثَمَنًاقَلِیْلاً وَاِیَایَ فَاتَقُوْنِ ۔(41) اوراس پر ایمان لاؤ جومیں نےنازل کیا ھے تصدیق کرتا ھوااسکی جوتمہارےپاس ھےاوراس کے اول نمبر کے منکر نہبنوا ورمیری آیتوں کو ذرا سیقیمت پرھاتھ سےنہ دیدو ورنہ پھرمجھ سے بچاؤکی فکرکرو"

مزید

تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 36 تا 40)

تفسیر "فَاَزَلَھُمَاالشَیْطٰنُ عَنْھَا فَاَخْرَجَھُمَا مِمَاکَانَ فِیْہ وَقُلْنَااھْبِطُوا بَعْضُکُم لِبَعضٍ عَدُوّ ^ وَ لَکُمْ فِیْ الاَرْضِ مُسْتَقَرّ وَ مَتَاعّ اِلٰی حِیْنٍ (36). اس کے بعد شیطان نے ان کا قدم پھسلاکروھاں سےھٹانےکاسامان کیا تو انہیں جس میں وہ تھے اس سے نکلوادیا اورھم نےکہا کہ اتر جاؤ تم میں ایک کاایک دشمن ھوگا اور تمہیں زمین پر ٹھہرنےاور ایک میعاد تک فائدہ اٹھانے کا موقع ھوگا"

مزید

تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 31 تا 35)

تفسیر "وَ عَلَمَ اٰدَمَ الاَسْمَآءَ کُلَھَاثُمَ عَرَضَھُم عَلَی الْمَلٰئِكَةِ فَقَالَ اَنْبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ ھٰوءُلآَءِ اِنْ کُنْتُم صٰدِقِیْنَ  (31). اور اس نےآدم کو وہ تمام نام سکھادیئے پھر اُن اشخاص کو فرشتوِ کےسامنےپیش کرکے فرمایابتاؤمجھےان کےنام اگر تم سچے ھو"

مزید

تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 26 تا 30)

تفسیر . "اِنَ اللہَ لاَ یَسْتَحْی اَنْ یَضْرِبَ مَثَلاًمَابَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَھَا^ فَاَمَا الَذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنهُ الْحَقُ مِنْ رَبِھِمْ ^ و َاَمَا الَذِیْنَ کَفَرُوا فَیَقُوْلُوْنَ مَاذَآ اَرَادَاللہُ بِھٰذامَثَلاً یُضِلُ بِہ کَثِیْرًاوَیَھْدِیْ بِہ کَثِیْرًا وَمَایُضِلْ بِہ اِلاَالْفٰسِقِیْنَ (26) بلاشبہ اللہ اس سے نہیں شرماتا کہ وہ مچھر یا اس سے بھی بڑھ کرکسی چیز کی کوئی مثال بیان کرےاب وہ لوگ جوایمان لائےھیں وہ جانتےھیں کہ وہ یقینًا حق ھے انکےپروردگارکی طرف سے اور جولوگ کفر اختیار کیےھوئے ھیں وہ کہتےھیں کہ آخراللہ کااسطرح کی مثال سے کیا مطلب ھے؟ وہ اس سے بہت سوں کو گمراھی میں ڈالتا ھے اور بہت سوں کی ہدایت کرتا ھے اور گمراھی میں نہیں ڈالتا مگر بداعمالوں کو"

مزید

تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 21 تا 25)

تفسیر   "یٰآَیُھَاالنَاسُ اعْبُدُوا رَبَکُمُ  الِذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَکُمْ تَتَقُوْنَ (21) اے انسانو ! عبادت کرو اپنے پروردگار کی جس نے تمہیں بھی پیداکیا اورانہیں بھی جو تمہارےپہلے تھے عجیب نہیں کہ تم اپنے بچاؤ کاسامان کرسکو"

مزید

تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 16 تا 20)

تفسیر "اُوْلٰئِكَ الَذِیْنَ اشْتَرَوُاالضَلٰلَةَ  بِالْھُدٰی فَمَارَبِحَتْ تِجَارَتُھُمْ وَمَاکَانُوْامُھْتَدِیْنَ (16) یہ ھیں جنہوں نےھدایت کے بدلے گمراھی مول لی تو نہ اُن کے بیوپار نے نفع ھی دیا اورنہ اُنہیں ھدایت ھی نصیب ھوئی"

مزید

تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 11 تا 15)

تفسیر "وَاِذَا قِیْلَ لْھُمْ لاَ تُفْسِدُوا  فِیْ الْاَرْضِ° قَالُوْا اِنَمَا نَحْنُ مُصُلِحُوْنَ (11)  اَلآَ اِنَھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰکِن لاَ یُشْعُرُوْنَ (12) اور جب اُن سے کہا جاتا ھے کہ دُنیا میں خرابیاں نہ پھیلاؤ تو وہ کہتے ھیں کہ ارے ھم تو صرف اصلاح کرنے والےهیں یاد رھے کہ درحقیقت وهی خرابیاں ڈالنے والے ھیں لیکن وه اس کا احساس ھرگز نہیں رکھتے"

مزید

تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 6تا 10)

تفسیر "اِنَ الَذِیْنَ کَفَرُوْاسَوَآءّ عَلَیْھِم  ءَاَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ 6 بلاشبہ جن لوگوں نےکفراختیار کیا اُن کے حق میں یکساں ھے  خواہ آپ (ص) انہیں ڈرائیے یا  اُنہیں نہ ڈرائیےبہرحال وہ ایمان  لائیں گے نہیں"

مزید

تفسیر "سورہ البقرة " (آیات ا تا 5)

تفسیر سورہ بقرہ: یہ مدنی سورہ یعنی بعدِ ھجرت کا نازل شدہ قرآن کے تمام سوروں میں سب سے بڑا سورہ ھے جو 286 آیات پر مشتمل ھے.(1)

مزید

تفسیر سورہ فاتحہ تفسیر فصل الخطاب سے اقتباس

تفسیر سورہ  فاتحہ  تفسیر فصل الخطاب سے اقتباس رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد خلفاء کی طرف سے جو قرآن جمع کیا گیا اُس میں اکثر ایک سورہ کی آیتیں دوسرے سوروں میں چلی گیئں مگر بعض سورے جو شروع سے آخر تک ایک ساخت رکھتے ھیں اُن میں یقین کیا جاسکتا ھے کہ وہ شروع سے اسی صورت پر تھے جس طرح اس وقت موجود ھیں

مزید

تفسیر "فصل الخطاب" سے اقتباسات (حصہ پنجم)

تفسیر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کوکوئی ویسا فرض کرلےجیساانکےدشمن کہتےتہے کہ انہوں نےتوریت اور انجیل کےمندرجہ واقعات افواہی حیثیت سے عام اشخاص سےسنے اور انہیں قرآن میں درج کردیا.

مزید

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک